مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے حامیوں کی انتخابات میں شکست کے بعد ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب پاکستانی عوام نے کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری ڈینا پیرینو نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) کے انتخابات میں ہارنے پر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے فون کر کے اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات چیت کی ہے۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے کے شعبہ اطلاعات سے ذرائع ابلاغ کے لیے جمعرات کو جاری کردہ ڈینا پیرینو کے بیان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ صدر بش نے صدر پرویز سے منگل کو روانڈا سے گھانا جاتے ہوئے دوران پرواز فون پر بات کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ’صدر بش نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے مکمل تعاون کیا کیونکہ انہوں نے (صدر پرویز مشرف) نے پاکستان کو جمہوریت کے راستے پر لانے میں مدد کی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ایک اچھے شراکت دار رہے‘۔ ترجمان نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو اقتدار میں رہنا چاہیے یا نہیں اس بات کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے۔ پاکستان میں حکومت سازی کے اہم مرحلے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) کو مسترد کرکے مشرف مخالف جماعتوں سے مل کر مخلوط حکومت بنائے جانے کی وجہ سے پہلے ہی صدر پرویز مشرف کا اقتدار میں رہنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔ لیکن ایسے میں امریکہ کا یہ کہنا کہ صدر پرویز نے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر لانے میں مدد کی اور اس لیے انہیں صدر بش کی حمایت حاصل رہی اور اب ان کی قسمت کا فیصلہ پاکستانی عوام کریں گے، صدر پرویز مشرف کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ | اسی بارے میں ’دھاندلی پر فوجی امداد کی بندش‘15 February, 2008 | الیکشن 2008 ’ انتخابات نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ‘20 February, 2008 | الیکشن 2008 ’عدلیہ بحالی، نئی پارلیمان پر انحصار‘19 February, 2008 | پاکستان ’وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں‘20 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||