BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 February, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں‘

زرداری اور نواز شریف کے دوران ملاقات متوقع ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے
واشگاف الفاظ میں کہا ہےکہ وہ وزارتِ اعظمی کے امیدوار نہیں ہیں اور پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں سے کسی کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا جائے گا۔

پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری نے بدھ کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ان کے مطابق وزیراعظم کون ہوگا یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ ہے کہ با اختیار اقتدار چاہیے، اگر بے اختیار حکومت ہوگی تو پھر کوئی اور بنائے اُن کی جماعت اپوزیشن میں بیٹھے گی۔‘

بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اسلحہ اٹھایا ہے انہیں بھی قومی دھارا میں لانا ہوگا۔ ’ان سے ان کی شرائط پر بات کرنا ہوگی صوبائی خودمختاری بھی دینی ہوگی اور ان کے (صوبوں) کے قدرتی وسائل پر حق مالکیت بھی ان کا تسلیم کرنا ہوگا۔‘

جب انہیں ایک صحافی نے بتایا کہ نواز شریف آزاد امیدواروں اور مسلم لیگ(ق) کے اراکین توڑ رہے ہیں اور آپ سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے پھر آپ سے بات کرے گا تو زرداری نے کہا کہ اگر کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے تو بیشک کرے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ آج ان کی قاضی حسین احمد، محمود خان اچکزئی، عبدالحئی بلوچ اور دیگر سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور قومی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ (ق) کو انہوں نے پہلے تسلیم کیا اور نہ کریں گے۔ ان کے بقول ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے پر ان کے ساتھیوں کو اعتراض ہے۔

انہوں نے امریکی سفیر سے اپنے ملاقات کے حوالےسے کہا کہ امریکہ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستانی عوام اور جمہوریت کے ساتھ ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو امریکی سفیر سے ملاقات کے بعد اپنی جماعت کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران کہی۔

گزشتہ روز امریکی ترجمان کے اس بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ صدر مشرف کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ اس بیان کے بعد پاکستان میں تاثر تھا کہ شاید امریکہ نے صدر مشرف کے مخالف جماعتوں کو ایک پیغام دیا ہے۔

لیکن آصف علی زرداری نے نیوز کانفرنس میں بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ کسی فرد واحد نہیں بلکہ ملک کے ساتھ ہے۔ ’میں کل امریکی سینٹرز سے ملا اور آج امریکی سفیر سے ملا۔۔ امریکہ کا موقف واضح ہے کہ امریکہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو ہماری میٹنگز ہوئیں اس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو ڈیمو کریٹک بونس دیں گے جس سے جمہوریت مضبوط ہوگی،۔

ججز کی بحالی پر انہوں نے کہا کہ آج جب سٹیبلشمینٹ کا اونٹ پہاڑ کے نیچے ہے تو ایک دو ججوں کی بحالی ہی کیوں منوائیں، عدلیہ کو مکمل طور پر آزاد اور مالی خود مختاری دینے، پارلیمان کو بالادست بنانے، میڈیا کو آزاد کرانے اور اداروں کو مضبوط کرانے کے مطالبات کیوں نہ منوائیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ’شہید بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آج انہیں اقوام متحدہ سے خط موصول ہوا ہے کہ وہ اس صورت میں تحقیقات کریں گے جب پاکستان حکومت کہے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج بدلنے سے گریزکریں ورنہ آج کل ملک میں ججوں کے جیل جانے کی بھی رسم چل پڑی ہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ’ہم سندھ میں اکیلے حکومت بنا سکتے ہیں لیکن قومی مصالحت میں ایم کیو ایم کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے،۔

آصف علی زرداری نے بتایا کہ ان کے خلاف آج بھی تمام کیس موجود ہیں اور کوئی کیس ختم نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
آزاد اراکین پر سب کی نظر
20 February, 2008 | الیکشن 2008
کوئٹہ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
20 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد