BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 20 February, 2008 - Published 13:01 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع

کوئٹہ
بلوچستان میں ووٹ کی گنتی (فائل فوٹو)
بلوچستان میں ایک طرف حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تو دوسری جانب کچھ حلقوں سے دھاندلی کے الزامات عائد کیے جا رہے اس سلسلے میں لورالائی اور دکی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ دھاندلی کے الزامات عائد کرنے والوں میں دو سابق گورنر شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم نے سابق حکومت میں شامل جمعیت علماء اسلام کے صوبائی قائدین سے حکومت سازی کے لیے رابطے کیے ہیں۔ اس بارے میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے صوبائی رہنما مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا اجلاس سنیچر کے روز طلب کیا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کیئے ہیں ان میں بلوچستان نینشل پارٹی عوامی شامل ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی شفیق احمد نے کہا ہے کہ مرکز میں ان کی جماعت حکومت بنائے گی اور یہاں بلوچستان میں بھی وہ تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے لیکن فی الوقت صرف آزاد امیدواروں سے رابطے کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان اور سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر نے کہا ہے کہ وہ این اے دو سو اکہتر خاران پنجگور کی نشست پر نو ہزار ووٹ سے جیت رہے تھے لیکن مد مقابل کے علاقے میں تین پولنگ سٹیشن کے نتائج میں عددی ردو بدل کرکے انہیں پانچ سو باسٹھ ووٹ سے ہرا دیا گیا ہے۔

جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر نے کہا کہ ان کے خیال میں انہیں اس لیے ہار گیا ہے کیونکہ جب وہ گورنر تھے تو انہوں نے بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر صدر پرویز مشرف سمیت دیگر قوتیں میرے مخالف ہو گئی ہیں۔

ایک اور سابق گورنر بلوچستان فضل آغا نے کہا ہے کہ سنجاوی کے علاقے میں انتظامیہ کے اہلکار پولنگ سے پہلے رات کے وقت ٹھپے لگا رہے تھے جنھیں لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ ادھر لورالائی اور دکی میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور علاقے میں ہڑتال کی گئی۔ پنجگور سے بھی مظاہروں کی اطلاع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دھاندلی اس انداز میں کی گئی ہے جو علاقے سابق حکمرانوں کی نظر میں حساس تھے یا جہاں ان کے مفادات ہیں وہاں اپنی پسند کے امیدواروں کو فتح دلائی گئی ہے جبکہ مرکزی علاقوں میں زیادہ مداخلت کی اطلاعات موصول نہیں ہویں۔

اسی بارے میں
انتخابات: دو الگ الگ تحریکیں
08 February, 2008 | الیکشن 2008
بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد