بلوچستان: تشدد اور انتخابی سرگرمیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں ایک جانب انتخابات میں حصہ لینے والے اور انتخابات کی مخالف جماعتیں لوگوں سے رابطے اور جلسے کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبے کے مختلف علاقوں سے دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جمعہ کی صبح ڈیرہ مراد جمالی میں گوٹھ شاہ نور میں چھاپہ مارا ہے جہاں فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ لوگ کون تھے اور چھاپہ کیوں مارا گیا ہے اس بارے میں پولیس اہلکاروں نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ایف سی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں مشتبہ افراد روپوش تھے جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور گرفتار افراد سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ادھر کوہلو میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ آوران کے قریب تحصیل مشکے میں رات گئے نامعلوم افراد نے بلوچستان میں بجلی کے محکمے کے پاور ہاؤس اور ٹیلیفون ایکسچینج کے قریب دستی بم پھینکے ہیں جس سے پاور ہاؤس کو جزوی نقصان ہوا ہے ۔ تحصیل کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایف سی نے کاہان، بھمبھور، تراتانی جھبل، سورے کور اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کوگرفتار کیا ہے جن میں مقامی استاد، خطیب اور دیگر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ ان علاقوں میں تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے ایف سی کی کارروائیوں کی اطلاعات مِل رہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ انتخابی سرگرمیاں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی نے گزشتہ روز مچھ میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا لیکن پولیس نے انہیں ڈھاڈر جانے سے روک کر کوئٹہ واپس بھیج دیا۔ رئیسانی کے مطابق ان کے مخالفین کی حمایت کے لیے انتظامیہ نے انہیں آگے جانے سے روکا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے رند اور رئیسانی قبائل میں پرانی دشمنی چلی آرہی ہے اور تصادم کا اندیشہ تھا اس لیے انہیں روکا گیا ہے۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتیں اپنے اپنے طور پر انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے شمالی بلوچستان کے بیشتر شہروں میں جلسے منعقد کیے ہیں۔ انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صوبے کے مختلف شہروں میں دھماکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کل رات نوشکی میں مسلم لیگ(ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دفاتر کے سامنے دو دھماکے ہوئے تھے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ جمعرات کو ہی مچھ میں گرلز ہائی سکول کے قریب دھماکے میں تین بچے اور ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ اس سکول کو اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے خواتین کا پولنگ سٹیشن بنایا گیا ہے۔ یاد رہے مچھ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بلوچ کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن آرمی نے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پولنگ سٹیشن پر حملے کر سکتے ہیں اس لیے لوگ ان انتخابات میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی پولنگ سٹیشن جائیں۔ | اسی بارے میں انتخابات کے خلاف پمفلٹ تقسیم14 February, 2008 | پاکستان غیر فوجی حکومت ضروری ہے: قاضی09 February, 2008 | پاکستان انتخابات تو ڈھونگ ہیں: اپوزیشن 06 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: متعدد دھماکے، کئی ہلاک 04 February, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں دھماکہ ایک شخص ہلاک05 February, 2008 | پاکستان بلوچستان سردی کی لپیٹ میں06 February, 2008 | پاکستان بلوچستان:صحافی قتل،املاک پرحملے09 February, 2008 | پاکستان انتخابی مہم: خضدار میں دھماکہ12 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||