BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 08:07 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: تشدد اور انتخابی سرگرمیاں

کوئٹہ میں جلسہ(فائل فوٹو)
اے پی ڈی ایم کی جماعتیں اپنے اپنے طور پر انتخابی بائیکاٹ کے حق میں رابطے کر رہی ہیں۔
بلوچستان میں ایک جانب انتخابات میں حصہ لینے والے اور انتخابات کی مخالف جماعتیں لوگوں سے رابطے اور جلسے کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبے کے مختلف علاقوں سے دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جمعہ کی صبح ڈیرہ مراد جمالی میں گوٹھ شاہ نور میں چھاپہ مارا ہے جہاں فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ لوگ کون تھے اور چھاپہ کیوں مارا گیا ہے اس بارے میں پولیس اہلکاروں نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

ایف سی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں مشتبہ افراد روپوش تھے جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور گرفتار افراد سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

ادھر کوہلو میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ آوران کے قریب تحصیل مشکے میں رات گئے نامعلوم افراد نے بلوچستان میں بجلی کے محکمے کے پاور ہاؤس اور ٹیلیفون ایکسچینج کے قریب دستی بم پھینکے ہیں جس سے پاور ہاؤس کو جزوی نقصان ہوا ہے ۔

تحصیل کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایف سی نے کاہان، بھمبھور، تراتانی جھبل، سورے کور اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کوگرفتار کیا ہے جن میں مقامی استاد، خطیب اور دیگر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ ان علاقوں میں تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے ایف سی کی کارروائیوں کی اطلاعات مِل رہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

انتخابی سرگرمیاں
صوبے بھر میں انتخابی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے نظریاتی دھڑے کے قائدین آج مسلم باغ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کا جلسۂ ژوب میں ہو رہا ہے جبکہ گزشتہ روز جے یو آئی نے ژوب میں ایک ریلی نکالی تھی۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی نے گزشتہ روز مچھ میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا لیکن پولیس نے انہیں ڈھاڈر جانے سے روک کر کوئٹہ واپس بھیج دیا۔

رئیسانی کے مطابق ان کے مخالفین کی حمایت کے لیے انتظامیہ نے انہیں آگے جانے سے روکا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے رند اور رئیسانی قبائل میں پرانی دشمنی چلی آرہی ہے اور تصادم کا اندیشہ تھا اس لیے انہیں روکا گیا ہے۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتیں اپنے اپنے طور پر انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے شمالی بلوچستان کے بیشتر شہروں میں جلسے منعقد کیے ہیں۔

انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صوبے کے مختلف شہروں میں دھماکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کل رات نوشکی میں مسلم لیگ(ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دفاتر کے سامنے دو دھماکے ہوئے تھے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ جمعرات کو ہی مچھ میں گرلز ہائی سکول کے قریب دھماکے میں تین بچے اور ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔

اس سکول کو اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے خواتین کا پولنگ سٹیشن بنایا گیا ہے۔

یاد رہے مچھ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بلوچ کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن آرمی نے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پولنگ سٹیشن پر حملے کر سکتے ہیں اس لیے لوگ ان انتخابات میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی پولنگ سٹیشن جائیں۔

اسی بارے میں
بلوچستان سردی کی لپیٹ میں
06 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد