BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 February, 2008, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ بحالی، نئی پارلیمان پر انحصار‘

امریکن سینیٹرز
افراد سے نہیں اداروں سے تعلقات مستحکم ہونے چاہیں: امریکن سینیٹرز
تین سرکردہ امریکی سینیٹروں نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کا فیصلہ اب نئی پارلیمان کرے گی البتہ ان سینیٹرز کا اصرار تھا کہ حکومت چلانے کے لیے ماضی کو بھلانا ہوگا۔

صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری سے آج ملاقاتوں کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر جوزف بڈن، سینٹر اور امریکی صدارت کے سابق امیدوار جان کیری اور سینیٹر جیکوک ہیگل نے کہا کہ صدر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

صدر مشرف نے عدلیہ کی بحالی سے متعلق اس قسم کا بیان پہلے نہیں دیا ہے۔ صدر اس سے پہلے کہتے رہے ہیں کہ برطرف ججوں کا مسئلہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔

امریکی سینٹرز نے کہا کہ صدر سمجھتے ہیں کہ عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ نئے وزیر اعظم اور حکومت کے اختیارات کا احترام کریں گے۔ ان کے مطابق صدر مشرف کا کہنا ہے کہ یہ اب نئی حکومت کا اختیار ہے کہ وہ لاپتہ افراد، عدلیہ اور دیگر مسائل پر کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔

غیر فوجی امداد
 امریکہ کو نئی پاکستانی حکومت اور جمہوریت کی مدد کے طور پر اپنی غیرفوجی امداد میں تین گنا اضافہ کرنا چاہیے تاکہ مزید سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جاسکیں
سینیٹر بڈن

امریکی سینٹرز پاکستان کے انتخابات کی نگرانی والے ایک گروپ کا حصہ تھے۔ انتخابات کے بارے میں امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس میں خامیاں بھی تھیں لیکن یہ معیاری انتخابات کے بنیادی لوازمات کو پورا کرتا تھا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق امریکی صدارتی امیدوار اور سینٹر جان کیری نے کہ پاکستانی انتخابات تاریخی تھے۔ انہوں نے تشدد کے خدشات کے باوجود ووٹ ڈالنے پر پاکستانی عوام کی تعریف کی۔

امریکی سینیٹر فوزف بڈن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اعتدال پسند طبقے کو ان انتخابات کے ذریعے اپنی آواز ملی ہے۔ ’اب یہ تمام پاکستانی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ پر سے پابندیاں دور کرنے، آئین اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے کام کریں۔‘

تینوں سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ امریکی حکومت یا سینیٹ کی نمائندگی نہیں کر رہے بلکہ اپنی ذاتی حثیت میں یہ رائے دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وہ امریکی حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ افراد سے نہیں اداروں سے تعلقات مستحکم کریں۔

سینیٹر بڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو نئی پاکستانی حکومت اور جمہوریت کی مدد کے طور پر اپنی غیرفوجی امداد میں تین گنا اضافہ کرنا چاہیے تاکہ مزید سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جاسکیں۔ ’ہمیں یہ امداد دس سالہ منصوبے کے تحت دینی چاہیے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد