’ انتخابات نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات کی نگرانی کرنے والے دو غیرملکی وفود نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کیونکہ سبھی جماعتوں نے انتخابی نتیجے کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے ان کے مشن بھی ان انتخابات کو نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ مان رہے ہیں۔ اٹھارہ اکتوبر کے الیکشن کو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ نگرانی میں ہونے والا جمہوری عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک کے بہت سے غیر سرکاری اداروں نے ہزاروں کی تعداد میں الیکشن آبزرور مقرر کر رکھے تھے اور بیرونی ممالک سے بھی پانچ سو سے زائد مبصرین انتخابات کی نگرانی کرتے رہے۔ پاکستانی اور غیر ملکی صحافی ان سب کے علاوہ ہیں۔ غیر ملکی مبصرین کے دو بڑے وفود نے بدھ کو اپنی ابتدائی رپورٹوں میں اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ اور اس کی گنتی کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم الیکشن سے پہلے حکومت نے اپنی حمایت یافتہ جماعتوں کو جس طرح فائدے پہنچائے اور اپوزیشن جماعتوں کی راہ میں جو مشکلات کھڑی کیں، مبصرین نے ان پر کڑی تنقید بھی کی۔ یورپی یونین کے وفد نے، جس کی سربراہی یورپی پارلیمان کے نمائندے کر رہے ہیں، انتخابی عمل میں کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جیسے خواتین کے پولنگ سٹیشنوں پر بد نظمی، کئی پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے عمل میں شامل نہ کیا جانا، اور بیشتر ریٹرننگ افسروں کی جانب سے حلقہ وار نتیجے میں پولنگ سٹیشنز کی تفصیل نہ بتانا شامل ہیں۔ امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی انٹرنیشنل نے بھی انتخابات کی نگرانی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ الیکشن سے پہلے اپوزیشن کے امیدواروں اور عام ووٹرز کے لیے جو حالات پیدا کیے گئے تھے وہ اس انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم دونوں وفود نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کیونکہ سبھی جماعتوں نے انتخابی نتیجے کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے ان کے مشن بھی ان انتخابات کو نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ مان رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا صدر مشرف نے اس الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی؟ یورپی مشن کے سربراہ رابرٹ ایوانز نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور صرف یہ کہا کہ جنرل مشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں گے اور جیتنے والی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، اور اب تک وہ اس وعدے پر قائم ہیں۔ انتخابی نگرانی کے یہ دونوں وفود ابھی کچھ عرصہ پاکستان میں موجود رہیں گے اور الیکشن کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھیں گے۔ |
اسی بارے میں ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت 20 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||