BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 20 February, 2008 - Published 15:50 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ انتخابات نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ‘

یورپی یونین کے آبزرورز
یورپی یونین کے وفد نے انتخابی عمل میں کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی
عام انتخابات کی نگرانی کرنے والے دو غیرملکی وفود نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کیونکہ سبھی جماعتوں نے انتخابی نتیجے کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے ان کے مشن بھی ان انتخابات کو نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ مان رہے ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر کے الیکشن کو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ نگرانی میں ہونے والا جمہوری عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک کے بہت سے غیر سرکاری اداروں نے ہزاروں کی تعداد میں الیکشن آبزرور مقرر کر رکھے تھے اور بیرونی ممالک سے بھی پانچ سو سے زائد مبصرین انتخابات کی نگرانی کرتے رہے۔ پاکستانی اور غیر ملکی صحافی ان سب کے علاوہ ہیں۔

غیر ملکی مبصرین کے دو بڑے وفود نے بدھ کو اپنی ابتدائی رپورٹوں میں اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ اور اس کی گنتی کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم الیکشن سے پہلے حکومت نے اپنی حمایت یافتہ جماعتوں کو جس طرح فائدے پہنچائے اور اپوزیشن جماعتوں کی راہ میں جو مشکلات کھڑی کیں، مبصرین نے ان پر کڑی تنقید بھی کی۔

یورپی یونین کے وفد نے، جس کی سربراہی یورپی پارلیمان کے نمائندے کر رہے ہیں، انتخابی عمل میں کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جیسے خواتین کے پولنگ سٹیشنوں پر بد نظمی، کئی پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے عمل میں شامل نہ کیا جانا، اور بیشتر ریٹرننگ افسروں کی جانب سے حلقہ وار نتیجے میں پولنگ سٹیشنز کی تفصیل نہ بتانا شامل ہیں۔

امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی انٹرنیشنل نے بھی انتخابات کی نگرانی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ الیکشن سے پہلے اپوزیشن کے امیدواروں اور عام ووٹرز کے لیے جو حالات پیدا کیے گئے تھے وہ اس انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

تاہم دونوں وفود نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کیونکہ سبھی جماعتوں نے انتخابی نتیجے کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے ان کے مشن بھی ان انتخابات کو نسبتاً آزادانہ اور منصفانہ مان رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا صدر مشرف نے اس الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی؟ یورپی مشن کے سربراہ رابرٹ ایوانز نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور صرف یہ کہا کہ جنرل مشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں گے اور جیتنے والی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، اور اب تک وہ اس وعدے پر قائم ہیں۔

انتخابی نگرانی کے یہ دونوں وفود ابھی کچھ عرصہ پاکستان میں موجود رہیں گے اور الیکشن کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھیں گے۔

نواز شریفجوڑ توڑ کا آغاز؟
ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
اسی بارے میں
ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد