BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 25 February, 2008 - Published 20:39 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھر پارکر میں دھاندلی کے الزامات

دھاندلی کے الزامات دوسرے صوبوں سے بھی لگائے گئے ہیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر تاج حیدر نے سوموار کو صوبۂ سندھ کے ضلع تھر پارکر میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں جبکہ ان کے پاس وہاں تعینات تیرہ پریذائیڈنگ افسران نے دھاندلی کے اعتراف میں حلف نامے بھی داخل کیے ہیں۔

کراچی پریس کلب میں سوموار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این اے دو سو تیس، اور صوبائی اسمبلی کی پی ایس تریسٹھ اور چونسٹھ پر بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور الیکشن کمیشن ڈالے گئے ووٹوں اور جن کتابوں سے ووٹ علٰحیدہ کرکے دیے گئے ہیں انہیں بھی محفوظ کرنے کا حکم دے تاکہ ان چیزوں کو ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

ان کے ساتھ ضلع تھرپارکر کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں میں تعینات تیرہ پریذائیڈنگ افسران، اور سترہ اسسٹنٹ پریذائیڈنگ اور پولنگ افسران پریس کلب آئے تھے اور پیپلزپارٹی نے ان افسران کے لکھے گئے حلف ناموں کی کاپیاں صحافیوں میں تقسیم کئیں جن میں انہوں نے اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں میں گن پوائنٹ پر دھاندلی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

تاج حیدر نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پیپلزپارٹی کے الزامات کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حلقوں میں دوبارہ صاف اور شفاف انتخابات کرائیں جائیں جبکہ جہاں جہاں دھاندلی کی گئی ہے اور ثابت ہونے پر وہاں بھی دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اور جن سرکاری ملازمین نے دھاندلی کرانے میں حصہ لیا ہے انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف بھی دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کی جائے اور فیصلہ میرٹ پر دیا جائے۔ تاج حیدر پیپلزپارٹی کی جانب سے قائم کیے جانے ’اینٹی رِگنگ‘ سیل کے سربراہ ہیں جو پورے صوبے سے دھاندلی کے بارے میں معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے یہ معلومات انٹرنیٹ پر بھی مہیّا کی ہیں جس کے لئے ایک نئی ویب سائٹ دھاندلی ڈاٹ کام بنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متعلقہ حلقے این اے دوسو تیس سے سندھ کے سابق وزیرِاعلٰی ارباب غلام رحیم کے حمایت یافتہ امیدوار مسلم لیگ قاف کے ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو نے1,09,107 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ کہ دوسرے نمبر پر پیپلزپارٹی کے امیدوار امام علی سمیجو نے 42,957 ووٹ لیے۔

پی پی پی کے کارکن ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئےپی پی پی کا مطالبہ
الیکشن کمشن دھاندلی کی تحقیقات کرے
پاکستان مسلم لیگ نوازپنجاب میں محدود
نواز لیگ سنٹرل اور شمالی اضلاع میں جیتی
جیتامید کی ایک کرن
پاکستان میں نئی حکومت سے جنوبی ایشیاء پُرامید
سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
ایم کیو ایم متحدہ اپوزیشن میں
سندھ: ایم کیو ایم آئندہ حکومت میں شامل نہیں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد