BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 26 February, 2008 - Published 12:07 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی درخواستیں، نتیجہ روکنے کا حکم

فاروق ستار
فاروق ستار کے مخالف امیدوار نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے
این اے 249 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار حبیب میمن نے متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کی کامیابی کے خلاف پٹیشن دائر کر دی ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 202 کے نتائج روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

این اے 249 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار حبیب میمن کا موقف ہے کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں اور بیس پولنگ سٹیشن ایسے ہیں جہاں سے ایجنٹوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ انہوں نے استدعا کی ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے نتائج کو کالعدم قرار دیکر انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 202 کا نتیجہ روکنے کا حکم دیا ہے۔ این اے 202 شکارپور پر نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا، جن کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار آفتاب شعبان میرانی نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افضل محمد سومرو کی عدالت میں منگل کو آفتاب شعبان میرانی کی درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے اور مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن اور جسٹس ارشد نور پر مشتمل ڈویژن بینچ میں منگل کو حلقے این اے 250، پی ایس 87 اور پی ایس 15 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں مرزا اختیار بیگ، حاجی غلام قادر ملکانی اور میر حسن کھوسو کی درخواستوں کی بھی ابتدائی سماعت ہوئی اور عدالت نے سماعت اٹھائیس فروری تک ملتوی کردی۔

 این اے 249 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار حبیب میمن کا موقف ہے کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں اور بیس پولنگ سٹیشن ایسے ہیں جہاں سے ایجنٹوں کو اغوا کیا گیا تھا

پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے ایم کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت ، مسلم لیگ ق کے محمد علی ملکانی اور سہراب سرکی کی کامیابی کے خلاف پٹیشنز دائر کی ہیں۔

جبکہ این اے 253، پی ایس 126 اور پی ایس 127 پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں فیصل رضا عابدی، عبدالحکیم بلوچ اور رفیق بلوچ کی درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 اور سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 89، 90، 93 اور 128 سے بھی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے احکامات جاری کر چکی ہے۔ این اے 239، پی ایس 89 اور 90 سے پیپلز پارٹی اور پی ایس 93 اور 128 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں نے ایم کیو ایم کے امیدواروں کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی تھی۔

این اے 239 سے پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار عبدالقادر پٹیل نے منگل کو ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت جلد کی جائے۔

اسی بارے میں
سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی
24 February, 2008 | الیکشن 2008
دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد