BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 21 February, 2008 - Published 01:48 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نتائج روکنے، دوبارہ گنتی کے مطالبات

پی پی پی کے حامی
پی پی پی نے سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی ہے
سندھ میں عام انتخابات میں شکست کھانے والے پچاس سے زائد امیدواروں نے الیکشن کمیشن کو شکایات بھیجی ہیں، جن میں مخالف امیدواروں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شکایت کرنے والے امیدواروں کا تعلق پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ فنکشنل سے ہے۔

کراچی کے حلقے این اے 250 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو مسلح افراد نے پولنگ اسٹیشنوں پر قابض ہوکر جعلی ووٹ ڈالے۔

’دو بار کامیاب پھر ناکام‘
 صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 15 ٹھل سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میرحسن کھوسو نے دوبارہ گنتی کے لیے درخواست دی ہے، انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ دو بار گنتی میں انہیں کامیاب قرار دیا گیا تھا مگر بعد میں مسلم لیگ ق کے امیدوار ڈاکٹر سہراب سرکی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
امیر حسین کھوسو
این اے 208 جیکب آباد سے مسلم لیگ ق کے امیدوار اور نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو کے بھتیجے فہد ملک نے پیپلزپارٹی کے امیدوار اعجاز جکھرانی پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 15 ٹھل سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میرحسن کھوسو نے دوبارہ گنتی کے لیے درخواست دی ہے، انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ دو بار گنتی میں انہیں کامیاب قرار دیا گیا تھا مگر بعد میں مسلم لیگ ق کے امیدوار ڈاکٹر سہراب سرکی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

کراچی کے صوبائی حلقوں کے امیدوار عرفان مروت اور نجمی عالم، تھر پارکر سے امیدوار شرجیل میمن اور دیگر امیدواروں نے بھی دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے۔

دریں اثنا این اے 250 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخشت شجاعت کی کامیابی خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن اور جسٹس ارشد نور خان پر مشتمل ڈویژن بینچ سیکریٹری الیکشن کمیشن، کامیاب امیدوار خوش بخش شجاعت کو چھبیس فروری کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نےاپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے حلقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئی ہیں، جن کے ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تئیس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لیے درخواستیں دی تھیں مگر وہاں پولیس بھی مقرر نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں
حکومت سازی کی کوششوں کا آغاز
20 February, 2008 | الیکشن 2008
کوئٹہ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
20 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘
19 February, 2008 | الیکشن 2008
حصص بازار میں غیر معمولی تیزی
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد