حصص بازار میں غیر معمولی تیزی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد منگل کو کراچی سٹاک ایکسچنج کے کاروبار میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں لگ بھگ ساڑھے چار سو پوائٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حصص بازار کے کاروبار میں بہتری دراصل انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی امید کو ظاہر کرتا ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچنج کے سابق چئیرمین عارف حبیب نے بتایا کہ کراچی کے حصص بازار میں گزشتہ دو ماہ میں پہلی بار غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سال دسمبر میں جب ایمرجنسی کا خاتمہ ہوا تھا تو مارکیٹ میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا ’جو پرامن، منصفانہ اور شفاف الیکشن ہوئے ہیں اس کو مارکیٹ نے ویلکم کیا ہے اور مارکیٹ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان انتخابات سے پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر تاثر بہتر ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ملک پر اعتماد بڑھا ہے کیونکہ پہلے یہ ڈر تھا کہ انتـخابات کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع نہ ہو جائے۔ کراچی اسٹاک ایکسچنج پچھلے سال ایمرجنسی کے نفاذ اور پھر بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے عدم استحکام کا شکار رہی تھی جبکہ پچھلے ایک ماہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کساد بازاری نے بھی اس پر منفی اثرات مرتب کئے تھے۔ عارف حبیب کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بعد حصص بازار میں تیزی ایک مثبت اشارہ ہے تاہم کاروبار میں بہتری کا یہ رجحان کب تک اور کس حد تک برقرار رہتا ہے اس کا انحصار آنے والے دنوں پر ہے۔ ’اب جو اگلا مرحلہ ہے وہ حکومت سازی کا ہے۔ اس میں کس قسم کے اتحاد ہوتے ہیں اور اس اتحاد کا خاص کر صدر کے ساتھ برتاؤ کیسا رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت آیا صدر پرویز مشرف کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے یا ان کی پالیسیوں کے خلاف جاتی ہے۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ چیزیں واضح ہوں گی تو اس کی بنیاد پر مارکیٹ اپنی سمت کا تعین کرے گی۔‘ | اسی بارے میں پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||