حکومت سازی کی کوششوں کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی کا عمل شروع کر دیا ہے اور اس بابت پارٹی رہنماؤں کی ایک ملاقات آج (جمعرات) کو اسلام آباد میں متوقع ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی طلب کر لیے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نئی منتخب پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس اسلام آباد اور کراچی میں طلب کیے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے مرکزی پارلیمانی پارٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری سے ملاقات سے قبل مرکزی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں ان کی جماعت سے وابستہ سینٹ کے اراکین کے علاوہ نو منتخب قومی اسمبلی کے اراکین بھی شرکت کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اگلے روز صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس اسی روز شام چار بجے منعقد ہوگا۔
قائمقام چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی نے سینٹ کا اجلاس 25 فروری کو طلب کر لیا ہے۔ حزب اختلاف کی ریکوزیشن پر طلب کیا جانے والا یہ اجلاس پیر کی شام چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ اپوزیشن نے گزشتہ ہفتہ ملک میں امن و امان سمیت دیگر مسائل زیر بحث لانے کے لیے ایوان بالا کا اجلاس طلب کرنے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔ الیکشن کمیشن نے ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 172 میں پولنگ سٹیشن نمبر دو سو پینتیس میں دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پولنگ سٹیشن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کھار میں قائم ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ 23 فروری بروز ہفتہ کو ہوگی۔ بدھ کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے ملنے والی رپورٹ کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ کے دوران متعلقہ ریٹرننگ آفیسر موجود رہیں گے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ق) کی طرف سے سابق صدر فاروق احمد خان لغاری، پیپلز پارٹی کے شبیر احمد خان لغاری اور مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم امیدوار ہیں۔ انتخابی کمیشن نے منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ انتخابی اخراجات کی تفصیلات اٹھائیس فروری تک جمع کرا دیں۔ قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے یہ حد دس لاکھ روپے مقرر ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جو منتخب امیدوار کے قانونی تقاضہ پورا نہیں کریں گے ان کے نام سرکاری نتائج میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت 20 February, 2008 | الیکشن 2008 دھاندلی کا الزام، کامیاب کو مبارکباد20 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||