الیکشن کے سرکاری نتائج کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے سرکاری اور حتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہنے والے اس اجلاس کے بعد کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ قومی اسمبلی کی دو سو اٹھاون نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے ناموں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کی کل دو سو بہتر عمومی نشستوں میں سے چار ایسی ہیں جہاں امیدواروں کی ہلاکت اور امن عامہ کی وجہ سے اٹھارہ فروری کو انتخابات نہیں ہوئے جبکہ دس نشستیں ایسی ہیں جہاں مختلف وجوہات کی بنا پر نتائج روکنے کے لیے مختلف عدالتوں نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کی کل دو سو ستانوے میں سے دو سو اکیانوے کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے اور وہاں ایک نشست کا نتیجہ حکم امتناعی کی وجہ روکا گیا ہے جبکہ پانچ نشستوں پر امیدواروں کے انتخابی عمل کے دوران وفات کی وجہ سے انتخابات نہیں ہوسکے۔
ان کے مطابق سندھ اسمبلی کی ایک سو تیس عمومی نشستوں میں سے ایک سو بائیس کے نتائج جاری ہوچکے جبکہ سات نشستوں پر عدالتوں کے حکم امتناعی کی وجہ سے نتائج روکے گئے ہیں۔ سندھ میں ایک نشست پر انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے مزید بتایا کہ سرحد اسمبلی کی ننانوے نشستوں میں سے نواسی کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ سات نشستوں کے نتائج روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری ہوچکے ہیں اور تین نشستوں پر ابھی انتخاب ہونا باقی ہے۔ صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کی اکیاون میں سے اڑتالیس نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک نشست کا نتیجہ روکنے کا عدالتی حکم جاری ہوا ہے جب کہ دو نشستوں پر انتخاب بعد میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک موصول ہونے والے تمام انتخابی اعتراضات نمٹا دیئے گئے ہیں تاہم دیگر عذرراریوں کے حوالے سے شکایات کے لیے انتخابی ٹرائبیونل قائم کر دیے گئے ہیں۔ کنور دلشاد نے بتایا کہ تین روز کے اندر آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو اپنی پسند کی پارٹی میں شمولیت کی مہلت دی جا رہی ہے اور متعلقہ امیدوار اور سیاسی جماعت کا سربراہ مہلت ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تین روز کی مہلت کے بعد جب الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے اراکین کی فہرست ملے گی تو الیکشن کمیشن طے شدہ فارمولے کے تحت خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا تعین کرے گا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی ساٹھ اور اقلیتوں کی دس مخصوص نشستیں ہیں۔ جبکہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی چھیاسٹھ اور اقلیتوں کی آٹھ نشستیں ہیں، سندھ اسمبلی میں خواتین کی انتیس اور اقلیتوں کی نو نشستیں، سرحد اسمبلی میں خواتین کی گیارہ اور اقلیتوں کی تین اور بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی بائیس اور اقلیتوں کی تین نشستیں ہیں۔ کنور دلشاد نے دو روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ مخصوص نشستوں کے تعین کے بعد الیکشن کمیشن حتمی صورتحال سامنے آنے کے بعد قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو مطلع کرے گا۔ جس کے بعد یہ حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ کب اراکین کے حلف کے لیے اجلاس بلاتے ہیں۔
ان کے بقول حلف برداری کے بعد خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا عمل شروع ہوگا جوکہ پچاس روز میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بعض ایسے امیدوار بھی ہیں جو ایک ہی وقت میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اس لیے حلف کے بعد انہیں ایک نشست چھوڑنی ہوگی۔ |
اسی بارے میں مشرف مخالف جماعتوں کی جیت19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’آزاد ارکان سیاسی وابستگی ظاہرکریں‘21 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی پی، ایم کیو ایم مذاکرات27 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||