BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 27 February, 2008 - Published 16:53 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی، ایم کیو ایم مذاکرات

بدھ کو اپوزیشن جماعتوں نے اسلام آباد میں دو تہائی اکثریت کا دعویٰ کیا
پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک نمائندہ وفد صوبۂ سندھ میں حکومت سازی کے سلسلے میں جمعرات کو کراچی میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان سے مذاکرات کر رہا ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل نفیس صدیقی اور ایم کیو ایم کے رہنما اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے ملاقات کے پروگرام کی تصدیق کی ہے جو سہ پہر تین بجے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو عزیزآباد میں ہوگی۔

نفیس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات آصف علی زرداری کی ہدایت پر ہو رہی ہے جس کے لیے انہوں نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں وہ خود، پارٹی کے صوبہ سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ اور پی پی پنجاب کے رہنما میں مصباح الرحمان شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا پہلے سے طے شدہ کوئی ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ پارٹی کا وفد کھلے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے جائے گا۔

’پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ تمام لوگوں کو ساتھ لےکر چلیں اور تصادم کی سیاست کے بجائے مفاہمت کی سیاست ہو کیونکہ ملک اب تصادم کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لہذا ملک اور سندھ کے وسیع تر مفاد میں اور چونکہ وہ (ایم کیو ایم) ایک حقیقت ہیں ہم ان سے بات کرنا چاہتے ہیں اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ کیا پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی، نفیس صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میں نے کہا ہے کہ ہم جارہے ہیں اور گو کہ پیپلز پارٹی کی سندھ اسمبلی میں اتنی اکثریت میں ہے کہ اکیلے حکومت بناسکے لیکن چونکہ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ سب کو ساتھ لیکر چلیں تاکہ ملک اور سندھ میں استحکام آئے‘۔

آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان کچھ روز قبل ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے ایک اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے غیرمشروط تعاون کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے اس اعلامیے کی تردید بھی نہیں کی تھی۔ اس سے قبل آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں انتخابات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔

تاہم بعد میں اسلام آباد میں آصف علی زرداری کی زیرصدارت ہونے والے ایک اجلاس میں سندھ سے منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان میں سے بعض نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کو سندھ میں حکومت میں شامل کرنے کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسی دوران دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر انتخابات کے دوران اور بعد میں اپنے اپنے کارکنوں کے خلاف پرتشدد حملوں اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے تھے۔

تاہم آصف زرداری کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں آیا تھا البتہ الطاف حسین نے پچھلے چند دنوں میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے تحفظات اور ایم کیو ایم پر الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میری آصف علی زرداری سے آدھے گھنٹے تک مثبت بات ہوئی لیکن تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما اشتعال انگیز باتیں کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو حکومت میں جانے کا کوئی شوق ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں اس نے کسی سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھتی ہے تو منفی سیاست کے بجائے تعمیری اور مثبت رویہ اختیار کرے گی۔

نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ ’تحفظات تو دونوں طرف ہوسکتے ہیں لیکن جب لیڈرشپ زیادہ وسیع النظر ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے تو ملک کے مستقبل کی خاطر انہوں (آصف زرداری) نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ چیئرمین جو فیصلہ کریں گے وہ سب کو قبول ہوگا‘۔

سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
جیتامید کی ایک کرن
پاکستان میں نئی حکومت سے جنوبی ایشیاء پُرامید
بیلٹ باکسدھاندلی ڈاٹ کام
سندھ میں مبینہ دھاندلی ثبوت نیٹ پر
ایم کیو ایم متحدہ اپوزیشن میں
سندھ: ایم کیو ایم آئندہ حکومت میں شامل نہیں
آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
اسی بارے میں
پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل
26 February, 2008 | الیکشن 2008
نئی حکومت: امید کی ایک کرن
23 February, 2008 | الیکشن 2008
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد