الیکشن 08، چوبیس خواتین کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ 2008 کے انتخابات میں پاکستان میں قومی اسمبلی کی پندرہ عام نشستوں پر خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ گزشتہ انتخابات میں یہ تعداد بارہ تھی۔ اس کے علاوہ تین صوبائی اسمبلیوں کی نو عام نشستوں پر بھی خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صرف صوبہ سرحد کی کسی عام نشست پر کوئی بھی خاتون امیدوار کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ پورے ملک میں قومی اسمبلی کی ساٹھ عام نشستوں کے لیے سڑسٹھ خواتین امیدوار تھیں اور کامیاب ہونے والی بارہ خواتین کا تعلق پنجاب اور چار کا سندھ سے ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے پنجاب سے کامیاب ہونے والی خواتین میں پاکستان پیپلز پارٹی کی راحیلہ پروین، ڈاکٹر فردوس اعوان، ثمینہ گھرکی، عاصمہ دولتانہ، حنا ربانی کھر، مسلم لیگ نواز کی سائرہ افضل تارڑ، سمیرا ناز، تہمینہ دولتانہ، شامل ہیں، مسلم لیگ ق کی سمیرا ملک، غلام بی بی بھروانہ، فرخندہ امجد وڑائچ نے بھی کامیابی حاصل کی ہے ۔ سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرا پیچوہو، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، شمشاد بچانی اور متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت کامیاب ہوئی ہیں۔
قومی اسمبلی کی عام نشستوں پر شکست کھانے والی خواتین میں سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، سیدہ عابدہ حسین اور پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی چئرپرسن غنویٰ بھٹو بھی شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی سات عام نشستوں پر جن خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے ان میں شہزادی عمر زادی ٹوانہ، نیلم جبار، نادیہ راحیل، روبینہ شاہین، نغمہ مشتاق اور مسز عمر فاروق شامل ہیں، جن میں سے چار کا تعلق نواز لیگ سے ہے جبکہ ایک پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک مسلم لیگ ق سے تعلق رکھتی ہیں۔ سندھ اسمبلی کی ایک عام نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سسی پلیجو کامیاب ہوئی ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر نسرین کھیتران نے کامیابی حاصل کی ہے، جن کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے۔ عام انتخابات کے بعد اب قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص ساٹھ نشستیں اور اقلیتوں کی دس نشستیں سیاسی جماعتوں میں اکثریت کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی۔ |
اسی بارے میں مشرف مخالف جماعتوں کی جیت19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی اسمبلی کے نئے چہرے19 February, 2008 | الیکشن 2008 عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف19 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت19 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||