سندھ:پانچ خواتین، ایک اقلیتی کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی پانچ عام نشستوں پر خواتین اور ایک پر اقلیتی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ چار خواتین رکن اسمبلی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک کا متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔ سندھ سے انتیس خواتین عام نشستوں سے امیدوار تھیں جن میں سے اکثر سیاسی جماعتوں کی نامزد تھیں جبکہ کچھ خواتین آزاد امیداوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہی تھیں۔ نوابشاہ کے حلقے این اے دو سو تیرہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا پیچوھو کامیاب ہوئی ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار زاہد حسین سے تھا۔ گزشتہ عام انتخابات میں بھی انہوں نے اسی حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ این اے دو سو سینتیس مٹیاری پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار شمشاد کامیاب قرار دی گئی ہیں، ان کا مقابلہ مسلم لیگ کی حمایت یافتہ امیدوار ادیبہ مگسی سے تھا۔ بدین کے حلقے این اے دو سو پچیس پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کامیاب ہوئی ہیں، جن کا مقابلہ مسلم لیگ ق کی امیدوار یاسمین شاہ سے تھا۔ قومی اسمبلی کے حلقے دو سو پچاس سے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے نامزد امیدوار اور نامور کمپیئر خوش بخت شجاعت کامیاب ہوئی ہیں، ان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوارمرزا اختیار بیگ سے تھا۔ سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس پچاسی میرپور ساکرو سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سسی پلیجو کامیاب ہوئی ہیں ، ان کا مقابلہ مسلم لیگ ق کے امیر حیدر شاہ سے تھا، سسی پلیجو کی اس حلقے سے یہ دوسری مرتبہ کامیابی ہے۔ عام نشستوں پر شکست کھانے والی خواتین امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی چئرپرسن اور مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو بھی شامل ہیں جو لاڑکانہ کے حلقے این اے دو سو چار سے انتخاب لڑ رہی تھیں۔ عام انتخابات کے بعد اب خواتین کی مخصوص نشستوں کے انتخاب ہوں گے، جس میں سندھ سے قومی اسمبلی میں مخصوص دس نشستوں کے لیے چھتیس امیدوار ہیں اور صوبائی اسمبلی کی انتیس مخصوص نشستوں کے لیے تراسی خواتین انتخاب میں شریک ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سب سے زیادہ بارہ خواتین امیدوار کامیاب ہوئی تھیں جبکہ ایم کیو ایم کی چھ ، متحدہ مجلس عمل کی دو، مسلم لیگ ق کی تین ، فنکشنل لیگ کی دو اور نیشنل الائنس کی تین خواتین نے کامیابی حاصل کی تھی۔ پورے ملک میں عام نشستوں میں سے صرف ایک پر اقلیتی امیدوار نے فتح حاصل کی ہے اور یہ کامیابی سندھ اسمبلی کے صوبائی حلقے پی ایس بّہتر تھانہ بولا خان سے ڈاکٹر دیا رام ایسرانی کو ملی ہے۔ سندھ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین عام نشستوں پر اقلیتی امیدوار انتخاب لڑ رہے تھے۔ جن میں پی ایس ساٹھ پر مسلم لیگ فنکشنل کے راج ویر سنگھ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے سید علی مردان شاہ، پی ایس اکسٹھ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار انجنیئر پیسو مل کا مقابلہ مسلم لیگ فنکشنل کے ارباب ذوالفقار علی اور پی ایس بہّتر پر ڈاکٹر دیا رام کا مقابلہ مسلم لیگ ق کے امیدوار ملک چنگیز خان سے تھا۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 230 پر مہیش ملانی امیدوار تھے، جن کا مقابلہ ارباب ذکااللہ سے تھا۔ |
اسی بارے میں مشرف مخالف جماعتوں کی جیت19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی اسمبلی کے نئے چہرے19 February, 2008 | الیکشن 2008 عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف19 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت19 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||