BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 February, 2008, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حتمی نتائج پانچ مارچ سے پہلے

بیلٹ پیپر
قانون کے مطابق انتخابات کے چودہ روز بعد کمیشن کو حتمی نتائج کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پانچ مارچ سے قبل عمومی اور مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کرکے قومی و صوبائی اسمبلیوں کو بھجوا دیا جائےگا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئےالیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور محمد دلشاد نے بتایا کہ عمومی نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نتائج کے حتمی اعلان کی منظوری کے لیے یکم مارچ کو الیکش کمیشن کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق الیکشن کے بعد دس روز کے اندر تمام امیدوار متعلقہ ریٹرنگ افسران کے پاس انتخابی اخراجات جمع کرانے کے پابند ہیں۔ ان کے مطابق انتخابی اخراجات جمع کرانے کے لیے اٹھائیس فروری آخری تاریخ ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ قانون کے مطابق انتخابات کے چودہ روز بعد کمیشن کو حتمی نتائج کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق تو الیکشن کمیشن کو تین مارچ تک اخراجات کے گوشوارے جمع کرانے والے امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے لیکن کمیشن نے یکم مارچ کو اس سلسلے میں اجلاس بلا رکھا ہے۔

کنور محمد دلشاد نے امید ظاہر کی کہ یکم مارچ کو حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ ان کے بقول قانون کہتا ہے کہ جس روز حتمی نتائج کا اعلان ہوگا اس کے تین دن کے اندر آزاد امیدواروں کو اپنی پسند کی پارٹی میں شمولیت کرنی ہوگی۔ اور آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد جس جماعت کی عددی اعتبار سے جو بھی پوزیشن بنے گی اسی بنا پر اس جماعت کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔

 جس روز حتمی نتائج کا اعلان ہوگا اس کے تین دن کے اندر آزاد امیدواروں کو اپنی پسند کی پارٹی میں شمولیت کرنی ہوگی۔ اور آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد جس جماعت کی عددی اعتبار سے جو بھی پوزیشن بنے گی اس کی بنا پر اس جماعت کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی ساٹھ اور اقلیتوں کی دس مخصوص نشستیں ہیں۔ جبکہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی چھیاسٹھ اور اقلیتوں کی آٹھ نشستیں ہیں۔ سندھ اسمبلی میں خواتین کی انتیس اور اقلیتوں کی نو نشستیں۔ سرحد اسمبلی میں خواتین کی گیارہ اور اقلیتوں کی تین اور بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی بائیس اور اقلیتوں تین نشستیں ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ مارچ مخصوص نشستوں کا اعلان کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھجوا دیا جائے گا جس کے بعد حکومت حلف برداری کے لیے تاریح کا اعلان کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حلف برداری کے بعد خالی ہونے والی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا عمل شروع ہوگا۔ جو کہ ان کے بقول حلف برداری کے تقریباً دو ماہ کے اندر انتخابی عمل مکمل ہوجائے گا۔

اسی بارے میں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد