الیکشن کوریج، پی ٹی وی پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز سانز فرنٹیئرز‘ یا ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں الیکشن کوریج کو متعصب قرار دیا ہے۔ تنظیم نے 28 جنوری سے لے کر اب تک کی الیکشن کوریج کو مانیٹر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزبِ مخالف کی جماعتوں کو تھوڑا وقت دیا جاتا ہے جبکہ زیادہ وقت ان جماعتوں کو دیا جاتا ہے جو صدر پرویز مشرف اور وفاقی حکومت کی حامی ہیں۔ تنظیم کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 جنوری سے لے کر دو فروری تک روزانہ نشر کیے جانے والے چار مختلف پروگراموں میں صدر اور ان کے اتحادیوں کو 84.9 فیصد سیاسی خبروں، تجزیوں اور انٹرویوز کی شکل میں وقت دیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ پی ٹی وی دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اتنا ہی وقت دے۔‘
’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے سیاسی جماعتوں یا کرداروں کو آٹھ درجوں میں تقسیم کیا ہے۔ وہ یہ ہیں: صدر مشرف، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، صدر کی جماعت پی ایم ایل (ق) اور اس کے اتحادی، ایم کیو ایم، پی ایم ایل (ن)، پی پی پی، قوم پرست جماعتیں، اے این پی، حزبِ مخالف کا اتحاد اے پی ڈی ایم اور ایم ایم اے۔ چھ دن کی مانیٹرنگ کے دوران تنظیم کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) اور اس کے اتحادیوں کو 46 منٹ دیے گئے، جب کہ حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کو 40 منٹ دیے گئے جس میں (پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 28 منٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 12 منٹ دیے گئے۔ یہ تعصب کچھ دنوں میں تو اس سے بھی زیادہ نظر آیا۔ 28 جنوری کو پی ٹی وی نے اپنے چار نیوز بلیٹنز میں صدر کی حمایتی جماعتوں کو آٹھ منٹ اور 10 منٹ دیے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تین منٹ اور 11 سیکنڈ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو تین منٹ اور 20 سیکنڈ دیے گئے۔ ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے جب پی ٹی وی سے اس تعصب کے متعلق دریافت کیا تو ایک اہلکار نے انہیں بتایا کہ ’ہم سیاسی جماعتوں کو اس وقت کوریج دیتے ہیں جب وہ کچھ سیاسی سرگرمیاں کرتی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ق) یہ دوسروں سے زیادہ کر رہی ہے۔ دوپہر کو انتخابات سے متعلق ہمارا پروگرام ہوتا ہے اور اس میں ہر ایک کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں چینل وہی کہہ رہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے22 November, 2007 | پاکستان استعفے کو ترجیح دوں گا: مشرف11 January, 2008 | پاکستان فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہو گا: خالد14 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودھری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ’BBCبلیٹنز روکنا امتیازی کارروائی‘02 August, 2007 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||