پاکستان میڈیا کو آزاد کرنے کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیمرپورٹرز وِد آؤٹ فرنٹیئرز (آر ایس ایف) نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے وعدوں کے باوجود ذرائع ابلاغ آزاد نہیں ہے جس کی وجہ سے صحافی اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کی کوریج صحیح طور پر نہیں کرسکتے۔ آر ایس ایف نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ حکومتِ پاکستان جب تک صحافت پر عائد پابندیاں نہیں اٹھاتی اس وقت تک اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات آزاد نہیں ہو سکتے۔ آر ایس ایف کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی بھی میڈیا پر لگی پابندیاں، جرمانوں، نشریات میں تعطل اور صحافیوں کی گرفتاریوں کی صورت میں جاری ہیں۔ آر ایس ایف نے اپنے بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیوٹ میڈیا کے حوالے سے آرڈیننس واپس لیے جائیں، جیو نیوز پر عائد پابندیاں فوراً ختم کی جائیں اور صحافیوں کے خلاف تشدد بھی بند کیا جائے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایف نے خودکش حملوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے اور حکومتی چینل پی ٹی وی سے غیر جانبدارانہ اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابر وقت دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا پر پابندی پر آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ حکومت نے سخت قسم کے قوانین لاگو کیے ہیں جن کے ذریعے نشریات پر پابندی عائد کی ہیں اور ان پابندیوں کی وجہ سے انتخابات کو موثر طریقے سے کور نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو شدید خطرے لاحق ہیں اور ان خطرات کی ذمہ دار سکیورٹی اہلکار ہیں۔ آر ایس ایف نے پاکستان کے حوالے سے پانچ نکات کا ذکر کیا ہے:- انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے تین نومبر دو ہزار سات میں اخبارات (آر پی او دو ہزار دو) اور ٹی وی اور ریڈیو (پیمرا دو ہزار دو) آرڈیننس میں ترامیم کیں۔ ان ترامیم کے مطابق صدر پاکستان کی تصیح کرنے والے صحافی کو تین سال قید ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پیمرا نے ضابطہ اخلاق مرتب دیا جس سے ٹی وی اور ریڈیو کی آزادی پر پابندی لگائی۔ اس کے ساتھ درجنوں نجی ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنز کو بند کردیا گیا اور ضابطہ اخلاق پر دستخط کے بعد دوبارہ کھلنے کی اجازت دی گئی۔ پیمرا نے گیارہ دسمبر کو تمام نجی ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنز کو براہ راست کوریج کرنے پر پابندی لگا دی اور خلاف ورزی کرنے پر جرمانے، قید اور بند کرنے کی دھمکیاں دیں۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جیو ٹی وی پر عائد پابندیاں فوراً اٹھائی جائیں۔ پاکستان کے نہایت مشہور ٹی وی چینل جیو نیوز اور جیو سُپر پر ابھی بھی پابندی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ چند صحافیوں کو سکرین سے دور کردیا جائے اور کچھ پروگرام بند کردیے جائیں۔
ستمبر میں کئے گئےگیلپ کے ایک سروے کے مطابق پینتیس فیصد لوگ جیو دیکھتے ہیں جو کہ حکومتی پی ٹی وی اور نجی چینل اے آر وائی سے زیادہ ہے۔ آر ایس ایف نے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار سات میں تیس صحافی پولیس کے ہاتھوں زخمی اور ایک سو بیس گرفتارہوئے۔ صحافیوں کے خلاف تشدد ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہا جس میں سترہ دسمبر کو اسلام آباد کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ جعلی کیس بھی صحافیوں پر بنائے گئے۔ آر ایس ایف کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہنگاموں میں چونتیس صحافیوں کے خلاف ان ہنگاموں میں ملوث ہونے کا جرم عائد کیا ہے۔ صحافیوں کے لیے پاکستان ایشیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔ سنہ دو ہزار سات میں چھ صحافی خودکش حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ حکومت پاکستان کا سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی جانبدارانہ کوریج کرتا ہے۔ اس میں زیادہ وقت حکومتی ارکان اسمبلی کو دیا جاتا ہے اور خاص طور پر صدر مشرف کو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||