BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’BBCبلیٹنز روکنا امتیازی کارروائی‘

مست 103
بی بی سی پاکستان کے وکیل جمعہ کو بھی دلائل جاری رکھیں گے
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستانی ایف ایم چینلز پر بی بی سی کے بلیٹنز کی نشریات پر سرکاری پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں مزید ایک دن کی توسیع کردی ہے اور پابندی کے خلاف اپیلوں کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ہے۔

یہ اپیلیں مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان نے داخل کررکھی ہیں۔

جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن نے اپیلوں کی سماعت شروع کی تو پیمرا کے وکیل کاشف حنیف نے اعتراض کیا کہ اپیلیں قبل از وقت ہیں اور قابل سماعت نہیں ہیں۔ اس پر اپیل کنندگان کے وکیل عدنان چوہدری نے عدالت سے کہا کہ وہ اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل دینا چاہتے ہیں جس پر عدالت کے استفسار پر پیمرا کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

عدنان چودھری نے کہا کہ بی بی سی پاکستان نے پیمرا کی رضامندی اور منظوری کے بعد ایف ایم 103 کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس کے تحت بلیٹنز نشر ہونا شروع ہوئے اور پیمرا کو انہیں روکنے کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس نے اب تک بی بی سی کے بلیٹنز کے مقامی ایف ایم چینلز پر نشر ہونے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی منظوری سے قبل اپیل کنندگان اور پیمرا حکام کے مابین سات مہینوں تک بات چیت اور ملاقاتیں ہوتی رہیں جس کے بعد پیمرا نے 19 اکتوبر 2006ء کو تمام شرائط پوری کرنے کے بعد اس معاہدے کی منظوری دی تھی اور اب وہ اس سے منحرف نہیں سکتا۔

اگر فرض کر بھی لیا جائے
 اگر فرض کرلیا جائے کہ بی بی سی غیرملکی کمپنی ہے تب بھی پیمرا کے قوائد کے تحت پاکستان میں غیرملکی نشریاتی ادارہ کام کرسکتا ہے اگر اسکا مواد قومی خودمختاری، یکجہتی، سلامتی اور پبلک آرڈر کے خلاف نہ ہو اور نفرت پھیلانے کا سبب نہ بنے
عدنان چودھری

عدنان چوہدری نے کہا کہ پیمرا نے یہ شرائط رکھی تھیں کہ بلیٹنز نشر ہونے سے پہلے پیمرا کو نظر ثانی کے لیے بھیجے جائیں گے، اس سلسلے میں بنائے جانے والے میکینزم کی تفصیل سے پیمرا کو آگاہ کیا جائے گا اور بی بی سی خود کو مقامی کمپنی کے طور پر رجسٹر کرائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی بی سی نے ان تمام شرائط کو پورا کیا اور بلیٹنز نشر ہونے سے پہلے پیمرا کی نظر ثانی کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا نے بی بی سی کے بلیٹنز پر یہ اعتراض کیا ہے کہ بی بی سی ایک غیرملکی نشریاتی ادارہ ہے اور مقامی ریڈیو چینلز پر غیرملکی چینلز کے پروگرام نشر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے حالانکہ بی بی سی پاکستان، غیرملکی نہیں پاکستانی کمپنی ہے اور وہ پاکستانی شہریوں کی دلچسپی کی خبروں پر مشتمل بلیٹنز تیار کرتا ہے جو کسی اور نہیں بلکہ اردو زبان میں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں بی بی سی ورلڈ، سی این این، فوکس نیوز سمیت بیشتر غیرملکی ٹی وی چینلز کو تو اپنی نشریات دکھانے کی اجازت ہے جبکہ جیو ٹی وی پر روزانہ امریکی سرکاری ریڈیو چینل وائس آف امریکہ کے بلیٹنز نشر ہورہے ہیں لیکن پیمرا نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔‘

اسی طرح ’سی این بی سی امریکی چینل ہے لیکن پاکستانی کمپنی کے طور پر رجسٹر ہونے کے بعد اسے بھی سی این بی سی پاکستان کے نام سے نشریات دکھانے کی اجازت ہے۔‘

عدنان چودھری نے کہا کہ صرف بی بی سی پاکستان کو مقامی ایف ایم چینلز پر خبریں نشر کرنے سے روکنا واضح طور پر امتیازی کارروائی ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا واحد مقصد حکومتی پالیسیوں سے متعلق حقائق عوام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی بی سی اردو سروس آج سے نہیں بلکہ پچھلی نصف صدی سے شارٹ ویو اور میڈیم ویو پر خبریں نشر کررہا ہے جو پاکستان میں بڑی مقبول ہیں۔

’اگر فرض کرلیا جائے کہ بی بی سی غیرملکی کمپنی ہے تب بھی پیمرا کے قوائد کے تحت پاکستان میں غیرملکی نشریاتی ادارہ کام کرسکتا ہے اگر اسکا مواد قومی خودمختاری، یکجہتی، سلامتی اور پبلک آرڈر کے خلاف نہ ہو اور نفرت پھیلانے کا سبب نہ بنے جبکہ (پیمرا نے اپیلوں پر داخل کردہ اپنے جواب میں) کہا ہے کہ اسے بی بی سی بلیٹنز کے مواد پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس بناء پر پیمرا حکام نے بلیٹنز کو روک کر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کا اقدام آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے جس میں ہر شہری کو تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین کی اس ضمانت میں اطلاعات دینے والوں اور سننے والوں دونوں کا حق شامل ہے۔

پیمرا کے وکیل کا موقف
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن نے اپیلوں کی سماعت شروع کی تو پیمرا کے وکیل کاشف حنیف نے اعتراض کیا کہ اپیلیں قبل از وقت ہیں اور قابل سماعت نہیں ہیں۔ اس پر اپیل کنندگان کے وکیل عدنان چوہدری نے عدالت سے کہا کہ وہ اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل دینا چاہتے ہیں جس پر عدالت کے استفسار پر پیمرا کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا کا کہنا ہے کہ ایف ایم 103 پیمرا کے جاری کردہ لائسنس کے تحت اپنے حقوق کسی دوسرے کو فروخت، منتقل یا اسائن نہیں کرسکتا اور اس کا اعتراض ہے کہ ایف ایم 103 نے بی بی سی کو اپنا ائرٹائم اسائن کیا ہے جو کہ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی ہے مگر پیمرا کا یہ تاثر غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف ایم 103 بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز نشر کرنے سے پہلے سنتا ہے اور اسکے بعد اسے نشر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے کہا یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح پی ٹی وی اور دوسرے ٹی وی چینلز مختلف پروڈکشن کمپنیوں سے ڈرامے اور دوسرے پروگرام خرید کر چلاتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کی یہ شرط پری سنسرشپ کے زمرے میں آتی ہے کہ بی بی سی پاکستان اپنے بلیٹنز نشر کرنے سے پہلے اسے سنوائے۔ ’میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا مقصد اطلاعات کے ابلاغ کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے اسے دبانا یا اسے عوام تک پہنچنے سے روکنا نہیں ہوتا جیسا کہ پیمرا کررہا ہے۔‘

عدنان چوہدری جمعہ کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

بی بی سی نشریات بند
پاکستان میں مست ایف ایم کو دھمکیاں
آرڈیننس کی واپسی
ترامیم کی واپسی پر متضاد اشارے
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد