BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
BBC بلیٹنز:پابندی پر حکمِ امتناعی

News image
 پانچ منٹ دورانیے کے بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم ون او تھری کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان سے نشر ہونے شروع ہوئے تھے

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ نے پاکستانی ایف ایم چینلز پر بی بی سی کے بلیٹنز نشر کیے جانے پر عائد پابندی کے خلاف عبوری حکمِ امتناع جاری کردیا ہے۔

جسٹس مقبول باقر پر مشتمل سرکٹ بینچ نے یہ حکم منگل کو مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان کی جانب سے داخل کردہ دو علیحدہ اپیلوں پر جاری کیا ہے جس میں اس پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

اپیل کنندگان کی پیروی کرنے والے عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے سماعت کے موقع پر عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے سرکاری پابندی کو تجارت اور تقریر کی آزادی کے حق سے متصادم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بلیٹنز پیمرا کی منظوری سے نشر کیے جارہے تھے جو کہ کسی بھی طرح پیمرا آرڈیننس 2002ء کے منافی نہیں تھے اور بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 کے مابین ایک معاہدے کے تحت نشر ہونا شروع ہوئے تھے جس کے بارے میں پیمرا کو پہلے ہی مطلع کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے عبوری حکم میں پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ 25 جولائی تک مست 103 کے خلاف اس سلسلے میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھائے۔ اپیلوں کی آئندہ سماعت اب 25 جولائی کو ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو نجی ایف ایم چینل مست 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرادی تھیں۔

پانچ منٹ دورانیے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم ون او تھری کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونے شروع ہوئے تھے۔

مست ایف ایم 103 کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان بلیٹنز کی آزمائشی نشریات شروع ہونے کے کچھ دن بعد ہی پیمرا حکام نے انہیں مسلسل فون کرکے کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ بی بی سی کے بلیٹنز نشر کرنا بند کردیں ورنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

اس سلسلے میں پیمرا کی جانب سے چینل کی انتظامیہ کو دو نوٹس بھی جاری کیے گئے اور 29 جون کو پیمرا حکام نے کراچی اور دیگر شہروں میں ان کے سٹیشن منیجرز کو بلا کر خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یہ بلیٹنز بند نہ کیے تو ان کے سٹیشنز بند کردیے جائیں گے جس کے بعد انہوں نے یہ بلیٹنز نشر کرنا بند کردیے تھے۔

بی بی سی نشریات بند
پاکستان میں مست ایف ایم کو دھمکیاں
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
اسی بارے میں
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد