ساجد اقبال بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | مست ایف ایم بائیس جون سے بی بی سی کے بلیٹن نشر کررہا تھا |
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے بار بار دھمکیوں کے بعد پاکستان میں بی بی سی کے پارٹنر، مست ایف ایم ون او تھری نے سنیچر کے روز پاکستان کے چار بڑے شہروں میں بی بی سی کے نیوز بلیٹن نشر کرنا بند کر دیے ہیں۔ بی بی سی کے پانچ منٹ دورانیے کے خبر نامے نجی ریڈیو سٹیشن مست ایف ایم ون او تھری کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں 22 جون سے نشر کیے جا رہے تھے۔ مست ایف ایم 103 کے ایک سینئر اہلکار شفقت اللہ کے مطابق مست ایف ایم کی انتظامیہ نے بی بی سی کے نیوز بلیٹن نشر کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور اسی معاہدے کے تحت مست ایف ایم ون او تھری بی بی سی کے بلیٹن بائیس جون سے نشر کر رہا تھا۔ ’ہم نے 17 جون کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا تھا کہ ہم 22 جون سے اپنی ٹیسٹ ٹرانسمشن شروع کر رہے ہیں۔ تاہم اکیس جون کو ہمارے کراچی آفس میں پیمرا کا ایک نوٹس موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بی بی سی کے نیوز بلیٹن سے متعلق ہماری درخواست پر غور کیا جا رہا ہے اور اس کی منظوری تک ٹیسٹ ٹرانسمشن نہ شروع کی جائے۔ جس پر انہوں نے پیمرا کو تحریری جواب دیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد بی بی سی کے بلیٹنز تجرباتی بنیادوں پر نشر کرنا شروع کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے اگلے ہی دن انہیں پیمرا کی جانب سے ایک اور نوٹس موصول ہوا جس میں ان کے بقول ذرا سخت لہجے میں یہی بات دہرائی گئی تھی۔‘ شفقت اللہ کا کہنا ہے کہ پیمرا حکام انہیں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل فون کرکے کہتے رہے کہ وہ بی بی سی کے بلیٹنز نشر کرنا بند کردیں ورنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے اور گزشتہ روز پیمرا حکام نے ان کے اسٹیشن منیجرز کو بلا کر خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یہ بلیٹنز بند نہ کیے تو ان کی اسٹیشنز بند کردیے جائیں گے جس کے بعد انہوں نے یہ بلیٹنز نشر کرنا بند کردیے۔ شفقت اللہ کے مطابق مست ایف ایم 103 کی انتظامیہ نے اس معاملے پر پیمرا کے چیئرمین کو ایک احتجاجی خط بھی بھیجا ہے جس کی نقول ملک کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر و سیکریٹری اطلاعات کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ بی بی سی کے ایڈیٹر پاکستان عامر احمد خان نے مست ایف ون او تھری پر بی بی سی کے نیوز بلیٹنز کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بی بی سی پاکستان نے اب تک جو بھی کیا ہے وہ مکمل طور پر ان قوانین و ضوابط کے مطابق کیا جو پیمرا نے لاگو کر رکھے ہیں۔ عامرا حمد خان کے مطابق دو سال انتہائی تفصیلی مذاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ ہم مقامی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو اپنے پروگرام فراہم کرسکتے ہیں اور پیمرا کی جانب سے اس سلسلے میں تحریری اجازت نامہ ہمیں پچھلے سال انیس اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔ ’اجازت نامے میں پیمرا کی جانب سے چار شرائط درج تھیں جن میں بنیادی شرط یہ تھی کہ مقامی ریڈیو اسٹیشنز کو پروگرام فراہم کرنے کے لئے بی بی سی کا ایک مقامی کمپنی کے طور پر رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے تمام پروگرام نشر کرنے سے پہلے پیمرا کو سنانے کا طریقۂ کار وضع کرنا تھا۔ یہ تمام شرائط پوری کی گئیں اور اس وقت بی بی سی پاکستان ایک سو فیصد پاکستانی کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ہم نے تو باقی پاکستانی براڈکاسٹرز کی طرح یہ بھی مان لیا کہ ہم کوئی پروگرام براہ راست یا لائیو نہیں کریں گے۔‘ عامر احمد خان کے مطابق پچھلے چند دنوں سے ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہماری نشریات کیوں روکی گئی ہیں۔ ’اس سلسلے میں میری پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل انفورسمینٹ سے بھی بات ہوئی ہے۔ ایگزیکٹو ممبر سے بھی بات ہوئی ہے اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی صاحب سے بھی بات ہوئی ہے اور مجھے یہی تاثر ملا ہے کہ بالکل ہماری طرح یہ سب لوگ بھی ہماری نشریات معطل ہونے کی وجوہات کے بارے میں قطعی طور پر بے خبر ہیں۔‘ |