BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 June, 2007, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا ترامیمی آرڈیننس کی واپسی پر متضاد اشارے

پرانا آرڈینینس واپس نہ ہوگا بلکہ ایک نیا آرڈینینس لانا پڑے گا: قانونی ماہرین
حکومت کی جانب سے نجی ٹی وی چینلز سے متعلق نئے قوانین کی واپسی کے مسئلے پر متضاد اشارے مل رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے مطابق یہ قوانین غیرمشروط طور پر واپس لیے جا رہے ہیں جبکہ بعض سرکاری اہلکاروں کے مطابق نئی ترامیم کی واپسی ضابطۂ اخلاق سے مشروط ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ترامیمی آرڈیننس کی واپسی اتنی آسانی سے ممکن نہیں اوراب حکومت کو نیا آرڈیننس جاری کرنا پڑے گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور نجی ٹی وی چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان ہفتے کو راولپنڈی میں ملاقات کے نتائج سے متعلق حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے اشارے متضاد نوعیت کے ہیں۔

اس سلسلے میں زیادہ ابہام وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے بیان سے پیدا ہوا ہے۔ محمد علی درانی نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ آرڈیننس کی واپسی غیرمشروط ہے اور اس سے نجی ٹی چینلز کے ساتھ تمام معاملات طے پاگئے ہیں۔

دوسری جانب نجی ٹی وی مالکان اور بعض سرکاری اہلکاروں کے مطابق جنرل مشرف نے پیمرا قوانین میں ترامیم کی واپسی کو چینلز کی جانب سے تین روز میں ضابطۂ اخلاق کی تیاری سے مشروط کیا ہے۔

وفاقی سیکٹری اطلاعات انور محمود نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ جنرل مشرف نے نجی ٹی وی مالکان کی جانب سے ضابطۂ اخلاق تیار کرنے کی یقین دہانی کی صورت میں ترامیم کا آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے وزیر اطلاعات کے بیان پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔

ترامیم کی واپسی کب تک ممکن ہوسکے گا اس بارے میں سیکٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی واپسی کا ایک مروجہ طریقۂ کار ہوتا ہے اور اس میں وقت لگےگا۔

ماہرِ قانون منیر اے ملک نے پیمرا کے آرڈینینس میں ترامیم کی واپسی کے معاملے پر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے کہا چونکہ ترامیم والا آرڈیننس فی الفور نافذ العمل ہوا ہے لہذا حکومت کو اب نیا آرڈیننس لانا ہوگا۔

حکومت اور صحافیوں کی درمیان پیمرا قوانین میں ترامیم کے نئے آرڈیننسں کے اجراء پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ حکومت ان نئے قوانین کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

قانون میں نیا کیا؟
دو ہزار دو میں بننے والے ادارے کے نئے اختیارات
نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
آج ٹی وی پیمرا کے ضابطے یا
’آج‘ ٹیلی ویژن کو بند کرنے کی دھمکی
پیمرا کا ترمیمی بلپیمرا کا ترمیمی بل
ترمیمی بل سے میڈیا کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد