’سب دھاندلیوں کی ماں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی موجودگي میں آئندہ اٹھارہ فروری کو ہونیوالے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی، بقول انکے، تمام دھاندلیوں کی ماں یا ’مدر آف آل رگنگ‘ ہو گی۔ سابق کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان جمعے کی صبح نیویارک میں ایک غیر سرکاری ادارے میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے نیویارک میں زندگي کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے امریکیوں اور پاکستانیوں کے اس پر ہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جنگ کی لکیر لبرل اور بنیاد پرست لوگوں کے درمیاں نہیں بلکہ اسٹیٹسکو کو قائم رکھنے والے اور اسٹیسٹسکو کو ختم کرنیوالے لوگوں کے درمیان ہے۔ عمران خان آجکل اپنی پارٹی تحریک انصاف پاکستان کی امریکی شاخ کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور واشنگٹن کے بعد وہ نیویارک پہنچے ہیں۔ جہاں انکے لیے ان کی پارٹی نے نیویارک اور نیو جرسی میں جلسوں اور ایک فنڈ ریزنگ استقبالیہ کا اہتمام بھی کیا ہے۔ عمران خان نے صدر مشرف پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں فوج بھیج کر انہوں نے ملک کا استحکام سخت خطرے میں ڈال دیا ہے اور ابتک قبائلی علاقوں اور افعانستان کی سرحد پر جتنی تعداد میں پاکستانی فوج کے سپاہی ہلاک ہوچکے ہیں اتنی تعداد میں تو امریکی قوجی بھی عراق کی جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج میں پشتون افسروں نے اپنے لوگوں کیخلاف کاروائی کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سابق گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے، جو کہ خود مقامی قبائلی ہیں قبائلی علاقے میں حالات کو معمول پر لانے کیلیے صدیوں سے آزمائے ہوئے جرگہ نظام پر بھروسہ کیا تھا اور پھر انہیں استعفیٰ دے کر جانا پڑا۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف اور انکے ساتھی جنرل نہ کبھی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں رہے ہیں اور نہ ہی انہیں قبائلی ثقافت اور لوگوں کی نفسیات کا علم ہے، بلکہ جنرل ریٹائرڈ مشرف اور ان کے ساتھی جنرلوں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ملک تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس نو مارچ سے چیف جسٹس کو معطل کیے جانے کے بعد جنرل مشرف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ملک تبدیل ہوچکا ہے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا استقبال کر رہے تھے۔ انہوں نیں کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ امریکی انتظامیہ جب پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی بات کرتی ہے تو اس میں چیف جسٹس اور پاکستانی عدلیہ کے ان ساٹھ فی صد ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرتی جن کو صدر مشرف نے اپنی ہی حکومت کیخلاف اپنے ہاتھوں فوجی بغارت یعنی تین نومبر کو ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد برطرف کر دیا تھا۔ انہوں نے زورد دیتے ہوئے کہا کہ جن ججوں کی نگرانی میں انتخابات منصفانہ ہونا تھے انہیں برخاست اور نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اٹھارہ فروری کو پچاس فی صد ممکنہ انتخابات میں صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے تمام دھاندلیوں کی ماں دھاندلی کی جائے گي اور اگر ایسا ہوا تو وہاں سے ملک کہیں بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایک جگہ بلاول بھٹو یا پاکستان پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر میں قتل ہوجاؤں تو میرا بیٹا سلیمان خان میری پارٹی کا چئرمین نہیں بنے گا۔ |
اسی بارے میں ’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘26 December, 2007 | پاکستان تحریکِ انصاف کا الیکشن بائیکاٹ26 November, 2007 | پاکستان عمران رہا، بینظیر و فضل پر تنقید 21 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال19 November, 2007 | پاکستان ’وفاق کی بقاء کیلیے انتخابات ضروری‘25 January, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد امریکہ میں25 January, 2008 | پاکستان ’پیپلزپارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے‘06 January, 2008 | پاکستان ’ہنگامے زرداری اور شہباز نے کرائے‘02 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||