BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 04:02 GMT 09:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سب دھاندلیوں کی ماں‘

عمران خان
عمران نے کہا کہ صدر مشرف نے ملک کا استحکام خطرے میں ڈال دیا ہے
تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی موجودگي میں آئندہ اٹھارہ فروری کو ہونیوالے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی، بقول انکے، تمام دھاندلیوں کی ماں یا ’مدر آف آل رگنگ‘ ہو گی۔

سابق کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان جمعے کی صبح نیویارک میں ایک غیر سرکاری ادارے میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے نیویارک میں زندگي کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے امریکیوں اور پاکستانیوں کے اس پر ہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جنگ کی لکیر لبرل اور بنیاد پرست لوگوں کے درمیاں نہیں بلکہ اسٹیٹسکو کو قائم رکھنے والے اور اسٹیسٹسکو کو ختم کرنیوالے لوگوں کے درمیان ہے۔

عمران خان آجکل اپنی پارٹی تحریک انصاف پاکستان کی امریکی شاخ کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور واشنگٹن کے بعد وہ نیویارک پہنچے ہیں۔ جہاں انکے لیے ان کی پارٹی نے نیویارک اور نیو جرسی میں جلسوں اور ایک فنڈ ریزنگ استقبالیہ کا اہتمام بھی کیا ہے۔

عمران خان نے صدر مشرف پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں فوج بھیج کر انہوں نے ملک کا استحکام سخت خطرے میں ڈال دیا ہے اور ابتک قبائلی علاقوں اور افعانستان کی سرحد پر جتنی تعداد میں پاکستانی فوج کے سپاہی ہلاک ہوچکے ہیں اتنی تعداد میں تو امریکی قوجی بھی عراق کی جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج میں پشتون افسروں نے اپنے لوگوں کیخلاف کاروائی کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سابق گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے، جو کہ خود مقامی قبائلی ہیں قبائلی علاقے میں حالات کو معمول پر لانے کیلیے صدیوں سے آزمائے ہوئے جرگہ نظام پر بھروسہ کیا تھا اور پھر انہیں استعفیٰ دے کر جانا پڑا۔

اسٹیسٹسکو کی لڑائی
News image
 پاکستان میں جنگ کی لکیر لبرل اور بنیاد پرست لوگوں کے درمیاں نہیں بلکہ اسٹیٹسکو کو قائم رکھنے والے اور اسٹیسٹسکو کو ختم کرنیوالے لوگوں کے درمیان ہے
عمران خان

عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف اور انکے ساتھی جنرل نہ کبھی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں رہے ہیں اور نہ ہی انہیں قبائلی ثقافت اور لوگوں کی نفسیات کا علم ہے، بلکہ جنرل ریٹائرڈ مشرف اور ان کے ساتھی جنرلوں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ملک تبدیل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس نو مارچ سے چیف جسٹس کو معطل کیے جانے کے بعد جنرل مشرف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ملک تبدیل ہوچکا ہے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا استقبال کر رہے تھے۔

انہوں نیں کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ امریکی انتظامیہ جب پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی بات کرتی ہے تو اس میں چیف جسٹس اور پاکستانی عدلیہ کے ان ساٹھ فی صد ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرتی جن کو صدر مشرف نے اپنی ہی حکومت کیخلاف اپنے ہاتھوں فوجی بغارت یعنی تین نومبر کو ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد برطرف کر دیا تھا۔

انہوں نے زورد دیتے ہوئے کہا کہ جن ججوں کی نگرانی میں انتخابات منصفانہ ہونا تھے انہیں برخاست اور نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اٹھارہ فروری کو پچاس فی صد ممکنہ انتخابات میں صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے تمام دھاندلیوں کی ماں دھاندلی کی جائے گي اور اگر ایسا ہوا تو وہاں سے ملک کہیں بھی جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں ایک جگہ بلاول بھٹو یا پاکستان پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر میں قتل ہوجاؤں تو میرا بیٹا سلیمان خان میری پارٹی کا چئرمین نہیں بنے گا۔

عمران خان’بائیکاٹ ہونا چاہیے‘
انتخابات سے پاکستان میں انتشار بڑھے گا
عمران خان عمران خان کا عزم
’الطاف حسین پر برطانیہ میں مقدمہ کروں گا‘
عمران خانعمران کا مقدمہ
’لڑائی مہاجروں سے نہیں الطاف سے ہے‘
اسی بارے میں
’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘
26 December, 2007 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد