BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وفاق کی بقاء کیلیے انتخابات ضروری‘

 آصف زرداری
یہ پاکستان کی تاریخ میں بڑا سنگین موڑ ہے: آصف زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کا شفاف ہونا ملک کی بقاء کے لیے بہت ضروری ہے اور جوقوتیں انتخابات میں دھاندلی کرنا چاہتی ہیں وہ اس ملک کو توڑنا چاہتی ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبہ پنجاب کے قائدین سے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مخدوم امین فہیم، رضا ربانی، جہانگیر بدر، راجہ پرویز اشرف اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پارٹی کی مرکزی اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی قیادتوں کے ساتھ اجلاس میں آئندہ عام انتخابات اور اسکے بعد کے ممکنہ حالات کے لئے پارٹی کا لائحہ عمل طے کیا گیا اور اس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں پارٹی کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ انہوں نے آنے والے انتخابات کو ملک کی بقاء کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی کہ ان کی جماعت پاکستان کو بچانا چاہتی ہے۔

’یہ کوئی معمولی الیکشن نہیں ہے، یہ بڑا سنگین موڑ ہے پاکستان کی تاریخ میں اور وفاق کی بقاء کے لیے بڑا ضروری ہے کہ یہ الیکشن شفاف ہوں۔ ہم پاکستان بچانا چاہتے ہیں، ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو اپنے ووٹ کا خود تحفظ کرنا ہے کیونکہ یہ ووٹ پاکستان بچانے کے لئے ہے۔‘

آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر انتخابات شفاف ہوئے تو ان کی جماعت پورے ملک سے کامیابی حاصل کرے گی لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کا امکان ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الیکشن کے دن بدامنی پیدا کی جائے تاکہ لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نہ نکلیں۔

پین، پیشنس، پیپلز
 بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہماری جماعت کا پیغام پین (درد)، پیشنس (برداشت) اور پیپلز (عوام) ہے۔ ہمارا بہت بڑا نقصان ہوا ہے اسکے باوجود ہم نے دل پر پتھر رکھنا ہے اور اس غم کو اپنی طاقت بنانا ہے اور ووٹ کے ذریعے جمہوریت لاکر انصاف حاصل کرنا ہے

’جو قوتیں الیکشن میں دھاندلی کرنا چاہتی ہیں ان کو عقل نہیں ہے اور نہ ہی حالات کی نزاکت کو سمجھتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے متعلق ان کی جماعت کے امیدوار کے کچھ تحفظات ہیں جن سے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا اور حساس پولنگ سٹیشنز کی بھی نشاندہی کی جائے گی تاکہ وہاں مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

انہوں نے انتخابات کے متعلق اپنی جماعت کی حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پرامن طور پر انتخابات میں حصہ لیں گے، ووٹ ڈالیں گے اور الیکشن رزلٹ ملنے تک ہم ہر پولنگ اسٹیشن پر دھرنا دیں گے اور وہاں بیٹھے رہیں گے۔‘

آصف علی زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کی جماعت کا پیغام پین (درد)، پیشنس (برداشت) اور پیپلز (عوام) ہے۔ ’ہم پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہیں، ہمارا بہت بڑا نقصان ہوا ہے اسکے باوجود ہم نے دل پر پتھر رکھنا ہے اور اس غم کو اپنی طاقت بنانا ہے اور ووٹ کے ذریعے جمہوریت لاکر انصاف حاصل کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد ٹھٹھہ میں جلسہ کریں گے اور اسکے بعد صوبہ پنجاب کا بھی دورہ کریں گے جس کا آغاز لیاقت باغ راولپنڈی سے ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں اپنی اس تحریری اپیل پر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے جس میں انہوں نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کی زیرنگرانی بین الاقوامی کمیشن سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کے کئی ارکان اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ان کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔

بچہ بچہ پولیٹی سائز
 بی بی صاحبہ کی شہادت نے آج ملک کے بچے بچے کو پولیٹی سائز کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے تیس سالوں تک سیاستدانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیے رکھا لیکن بی بی کی شہادت نے ہر سیاسی آدمی کو اس کٹہرے سے نکال کر بلندی پر کھڑا کردیا ہے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ ووٹ دینا چاہتے ہیں کیونکہ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد وہ سیاست کی اہمیت سے آگاہ ہوگئے ہیں۔ ’بی بی صاحبہ کی شہادت نے آج ملک کے بچے بچے کو پولیٹی سائز کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے تیس سالوں تک سیاستدانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیے رکھا لیکن بی بی کی شہادت نے ہر سیاسی آدمی کو اس کٹہرے سے نکال کر بلندی پر کھڑا کردیا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت اقتدار میں آنے کے بعد بے نظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار افراد کو سزا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’انشاء اللہ پیپلز پارٹی پاور میں آئے گی اور اس سازش کو بے نقاب کرے گی، سزا اللہ دے گا، عوام دیں گے اور تاریخ دے گی۔ ہم انتقام کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے ہم جمہوریت لاکر یہ بات ثابت کردیں گے بی بی صاحبہ کی قربانی نے پاکستان کی تاریخ کو بدل دیا۔‘

پاکستان میں متعین امریکی سفیر اینے ڈبلیو پیٹرسن نے بھی جمعہ کو بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ امریکی سفیر نے ان سے بے نظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کی اور ملک میں استحکام اور جمہوریت کی بحالی کے ان کی جماعت کے مؤقف کی حمایت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد