ملک اور صحافیوں میں آنکھ مچولی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک اور صحافیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں منگل کے روز آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہی۔ صحافی ان سے ضمنی انتخابات کے التوا کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے جبکہ مشیر داخلہ کی ایک دروازے سے دوسرے اور ایک سے دوسری لابی میں ’گم‘ ہو رہے تھے۔ لگتا تھا کہ وہ اس بارے میں کسی سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے۔ سینیٹ میں منگل کو ملک میں امن عامہ کی صورتحال پر عام بحث جاری تھی جس دوران مشیر داخلہ رحمان ملک روایات کے پیش نظر ایوان میں موجود رہے اور بحث کے دوران مختلف ارکان کی جانب سے اٹھائے جانے والے نکات کے نوٹس لیتے رہے۔ سینیٹ کی گیلریوں میں موجود صحافی اجلاس ختم ہونے کے انتظار میں تھے اور جیسے ہی اجلاس ملتوی ہونے کا اعلان ہوا، پریس گیلری میں موجود اخبار نویس سینیٹ ہال کے خارجی دروازے کی جانب لپکے جہاں سے رحمان ملک نے باہر نکلنا تھا۔ مشیر داخلہ جونہی سینیٹ ہال کی دائیں جانب والی لابی سے ہوتے ہوئے بیرونی دروازے کی جانب آئے تو صحافیوں کے گروپ پر نظر پڑتے ہی وہ الٹے قدموں ہو لیے لیکن جونہی وہ بائیں جانب کی لابی سے نمودار ہوئے صحافیوں کا ایک اور گروپ آپس میں طے شدہ پروگرام کے مطابق وہاں بھی موجود تھا۔ رحمان ملک ان صحافیوں کی جانب سے پکارے جانے کے باوجود سینیٹ لابی میں واپس لوٹ گئے جہاں صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ صحافی چند لمحے ان کا انتظار کرتے رہے اس دوران مختلف سینیٹرز سے انکا سامنا ہوا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بھی اسی مسئلے پر رحمان ملک سےایوان کے اندر باقاعدہ وضاحت طلب کرنا چاہتے تھے لیکن چئرمین سینیٹ میاں محمد سومرو نے انہیں نکتہ اعتراص پر اس موضوع پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت جاننا چاہتی ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کو رحمان ملک نے کس کے کہنے پر انتخابات ملتوی کروانے کا مشورہ دیا۔
جس دوران رحمان ملک کے باہر آنے کا انتظار ہو رہا تھا، اسی نوعیت کے سوالات صحافیوں میں بھی گردش کرتے رہے۔ مثلاً ایک صحافی ان سے یہ پوچھنے میں دلچسپی رکھتا تھا کہ ایوان صدر سے انکے رابطے پارٹی سربراہ آصف علی زرداری کی منظوری سے ہوئے ہیں یا مشیر موصوف اپنے لیڈر کو بھی بائی پاس کر رہے ہیں۔ ایک اور صحافی کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا واقعی رحمٰن ملک ایوان صدر کے کہنے پر انتخابات ملتوی کروانے کی ’سازش‘ کر رہے ہیں۔ صحافی ابھی ان سوالات کے بارے میں آپس میں تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ ایک اور سینیٹر نے اطلاع دی کہ رحمٰن ملک، چئرمین سینیٹ کی وساطت سے ان کے لئے مخصوص دروازہ استعمال کر کے چئرمین سینیٹ کے دفتر میں سے ہو تے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہو چکے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اس دروازے کے باہر جسے اراکینِ سینیٹ و قومی اسمبلی آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں، مختلف ٹیلی وژن چینلز کے نمائندے اپنی لائیو پوزیشن پر مکمل تیاری کے ساتھ رحمٰن ملک کی راہ دیکھتے رہ گئے کیونکہ وفاقی مشیر داخلہ نے منگل کو اِس دروازے کو رونق نہیں بخشی اور اس کے برخلاف پارلیمنٹ ملازمین اور صحافیوں کے لیے مختص چھوٹے گیٹ سے سینیٹ میں آئے اور کیمروں کی نظروں سے بچتے ہوئے وہیں سے لوٹ گئے۔ | اسی بارے میں التواء وفاق کی درخواست پر؟05 May, 2008 | پاکستان ضمنی انتخابات کے التوا کی مذمت05 May, 2008 | پاکستان ضمنی انتخابات: تاریخ میں تبدیلی17 April, 2008 | پاکستان ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان14 April, 2008 | پاکستان سندھ: حکمراں اتحاد کی کامیابی11 February, 2007 | پاکستان کراچی میں ضمنی انتخاب، جھڑپیں10 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||