سندھ: حکمراں اتحاد کی کامیابی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں کے ضمنی انتخاب میں حکمران اتحاد نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کراچی کے حلقے این اے دو سو پچاس پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار اخلاق حسین عابدی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق انہیں تریپن ہزار سے زائد ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نو ہزار نو سو کے قریب ووٹ حاصل کرسکے۔ قومی اسمبلی کی یہ نشست متحدہ مجلس عمل کے رکن عبدالستار افغانی کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ جماعت اسلامی نے ضمنی انتخاب شفاف اور غیر جانبدار ہونے پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس حلقے میں دو لاکھ چوبیس ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ووٹوں کا ٹرن آؤٹ تئیس فیصد رہا۔ دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس اکہتر پر مسلم لیگ ق کے امیدوار مجیب شاہ جیلانی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق انہوں نے چوبیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مخالف پی پی پی امیدوار سکندر شورو گیارہ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرسکے۔ صوبائی اسمبلی کی یہ نشست پی پی پی کے رکن اسمبلی غلام نبی شورو کے انتقال کے وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے نتائج کو مسترد کردیا ہے اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دھاندلی کروائی ہے جس کے لئے ’سرکاری مشینری استعمال کی گئی‘۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ پی پی پی ہارنے کے بعد دھاندلی کے روایتی الزامات عائد کرتی ہے۔ | اسی بارے میں جیکب آباد: دوسرا ضمنی انتخاب24 February, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کے لیے لمحہ فکریہ؟11 January, 2007 | پاکستان جماعت: باجوڑ انتخاب میں دھندلی11 January, 2007 | پاکستان اٹک: پیپلز پارٹی کے چھ کارکن ہلاک09 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||