کراچی میں ضمنی انتخاب، جھڑپیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر سنیچر کو ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں میں جھڑپیں اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں پانچ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پی پی پی کے امیدوار نفیس صدیقی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مخالفین نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے دو پچاس متحدہ مجلس عمل کے رکن عبدالستار افغانی کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر ایم کیو ایم کے امیدوار کیپٹن اخلاق حسین عابدی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نفیس احمد صدیقی کے درمیاں مقابلہ ہوا۔ صبح آٹھ بجے مقررہ وقت پر پولنگ شروع ہوئی جو مقررہ وقت شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ پولنگ کے دوراں عائشہ باوانی سکول، حقانی چوک پر فائرنگ اور جھڑپیں ہوئیں جس میں دونوں جماعتوں کے پانچ سے زائد حامی زخمی ہوگئے۔ پولیس نے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی رہائی کے لئے پی پی پی کی جانب سے پولیس تھانے کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلیوں اور ہنگامہ آرائی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ پی پی پی کےامیدوار نفیس صدیقی کا کہنا ہے ان پر سیفیہ سکول کے پولنگ سٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے وہاں پولنگ بوتھ کے اندر غیر متعلقہ لوگوں کو دیکھا جن میں سے انہوں نے تین کو پکڑ لیا۔ نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ پریذائیڈنگ افسر سے باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے بتایا کہ وہ انہیں اغوا کرکے کمرے میں لے جانا چاہتے تھے مگر کچھ لوگ درمیان میں آگئے اور انہیں سیڑھی سے دھکا دیا اور وہ نیچے جا گرے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الزامات کو رد کیا ہے ، ان کاکہنا تھا کہ جب پی پی پی کو بارہ بجے شکست نظر آئی تو انہوں نے اس کو تسلیم بھی کرلیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔
ان کے مطابق مخالفیں نے عائشہ باوانی کے کیمپ پر فائرنگ کی اور ان کے دو ساتھیوں کو شدید زخمی کیا اور جبکہ ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، اس طرح حقانی چوک پر کیمپ پر فائرنگ کرکے ایک یوسی ناظم اور ایک کارکن کو زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’متحدہ قومی موومنٹ کے تعمیراتی کام تو خود بول رہے ہیں اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ پی پی پی بوکھلا گئی اور اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ کسی طریقے سے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے ایک طرف جھوٹے الزامات عائد کرے اور دوسری طرف متحدہ کے کیمپوں پر فائرنگ کرائے‘۔ جماعت اسلامی نے ضمنی انتخاب شفاف اور غیر جانبدرانہ ہونے پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے میں دو لاکھ چوبیس ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں، انتخاب کے لئے ایک سو پینتیس پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ رات تک ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔ دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس اکہتر کے لیے بھی آج ووٹ ڈالے گئے، اس نشست کے لیے پی پی پی کے امیدوار سکندر شورو اور مسلم لیگ ق کے مجیب شاہ میں مقابلہ تھا۔ پولنگ کے دوراں مختلف پولنگ سٹیشنوں پر فائرنگ اور پانچ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہیں۔ یہ نشست پی پی کے رکن اسمبلی غلام نبی شورو کے انتقال کے وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ یہ حلقہ کوٹڑی ، جام شورو اور سن پر مشتمل ہے، جس میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ | اسی بارے میں جیکب آباد: دوسرا ضمنی انتخاب24 February, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کے لیے لمحہ فکریہ؟11 January, 2007 | پاکستان جماعت: باجوڑ انتخاب میں دھندلی11 January, 2007 | پاکستان اٹک: پیپلز پارٹی کے چھ کارکن ہلاک09 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||