BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 May, 2008, 22:55 GMT 03:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
التواء وفاق کی درخواست پر؟

الیکشن کمیشن
اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے تین جون کو ضمنی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا
سرحد حکومت نے وضاحت کی ہے کہ صوبے میں ضمنی انتحابات وفاقی حکومت کی درخواست پر ملتوی کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے صوبائی وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی سے انتخابات ملتوی کرانے کےلئے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کو مزید دو ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب یہ انتخابات اٹھارہ اگست کو کرائے جائیں گے۔

حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ خود پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے بھی ایک بیان میں اس التوا کی مذمت کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا تھا کہ اس ’غیرجمہوری اقدام پر حکومت یا کسی سیاسی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ غیر جمہوری قوتیں سرگرم ہیں جو نہیں چاہتی کہ جمہوریت کے قدم نہ جم پائیں۔‘

الیکشن کمیشن کی طرف سے اس غیر متوقع اعلان میں کہا گیا تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبیلوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کو صوبہ سرحد میں امن و اماں کی خراب صورت حال، مرکز اور صوبوں کی اسمبلیوں میں بجٹ اجلاسوں اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال کی بنا پر ان کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

پیر کی رات صوبائی وزیراطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان میاں افتخار حیسن نے پشاور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت نے صوبائی وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ تینوں صوبے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں لہذا سرحد حکومت بھی وفاقی حکومت کی حمایت کرے اور انتخابات ملتوی کرنے پر اتفاق کرے۔

ان کے مطابق وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے خط کے ذریعے وفاقی حکومت کو لکھا کہ اگر تینوں صوبے ضمنی انتخابات کے التواء پر متفق ہیں تو سرحد حکومت کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابات مختصر مدت کےلیے ملتوی کئے جائیں کیونکہ جن علاقوں میں انتخابات نہیں ہوسکے ہیں ان کو لمبے عرصہ تک نمائئندگی سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔

سازش کی بو
 ان انتخابات کے دوسری مرتبہ التواء سے نا صرف سازش کی بو آ رہی ہے بلکہ یہ آئین سے بھی متصادم ہے
آصف زرداری

شیری رحمان نے کہا کہ اس اعلان کی انکوائری بھی کرائی جائے گی۔ اس معاملے پر مزید غور وزیر اعظم کی ملتان سے واپسی اور آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کی قیادت سے ملاقات میں ہوگا۔

ضمنی انتخابات دوسری بار ملتوی کیے گئے ہیں اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے تین جون کو ضمنی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا تاہم انہیں نئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کی بنا پر اٹھارہ جون تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

اس وقت کمیشن کا موقف تھا کہ اسمبلی اجلاسوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ان ضمنی انتخابات کے سلسلے میں اُمیداروں کو ٹکٹ جاری کر سکیں لہذا سیاسی جماعتوں کو سہولت دینے کے لیے ضمنی انتخابات کے شیڈول میں تبدیلی لائی گئی ہے۔

اس مرتبہ انتخابی کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے تھا کہ فیصلہ صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے موصول رپورٹ کی روشنی کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں انہوں نے امن عامہ کی صورتحال کو خراب قرار دیا ہے۔

نیا انتخابی شڈول جلد
 نیا انتخابی شیڈول بہت جلد جاری کر دیا جائے گا تاہم جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں انہیں دوبارہ کاغذات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی
الیکشن کمیشن

ان کا کہنا تھا کہ نئی تاریخ کے لیے نیا انتخابی شیڈول بہت جلد جاری کر دیا جائے گا تاہم جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں انہیں دوبارہ کاغذات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سیاسی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوبارہ التواء پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام انتخابات کے بعد سے ملک بھر میں عمومی طور پر امن عامہ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

یہ ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی آٹھ اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستوں پر ہونے ہیں۔

قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے دو نشستوں پر پہلی مرتبہ انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ ایک سو انیس اور دو سو سات ہے جہاں پر اُمیدواروں کی موت کی وجہ سے وہاں پر انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔

پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو این اے 207 سے اُمیدوار تھیں لیکن ستائیس دسمبر کو ان کی ہلاکت کے بعد اس حلقے میں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے اُمیدوار طارق بانڈے کی وفات کے بعد اس حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے ۔

چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق

قومی اسمبلی کی چھ نشتیں ان ارکان قومی اسمبلی نے خالی کی ہیں جو کہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی سرفہرست ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی جس میں سے انہوں نے اپنے آبائی شہر ملتان کی نشست اپنے پاس رکھی ہے جبکہ لاہور اور راولپنڈی کی نشستیں خالی کر دی ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کے جن حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے تین، بلوچستان کے تین اور صوبہ سرحد کے سات حلقے شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ان ضمنی اتنخابات میں حصہ لینے کے لیے اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

آصف زرداری کی مذمت

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے التوا کی مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کے اصل حقائق جاننے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ التوا کے لیے دی جانے والی وجوہات معتبر نہیں ہیں۔

ان کا موقف تھا کہ آئین کی شق 224 (4) کے تحت انتخابی کمیشن کا یہ فرض ہے کہ نشست خالی ہونے پر ساٹھ دن کے اندر انتخاب کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے دوسری مرتبہ التواء سے نا صرف سازش کی بو آ رہی ہے بلکہ یہ آئین سے بھی متصادم ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت تین اور اٹھارہ جون کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق نے بھی التواء کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
خاران میں ضمنی انتخابات
28 May, 2005 | پاکستان
این اے 127 پر ضمنی انتخابات
06 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد