BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 May, 2008, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمنی انتخابات کے التوا کی مذمت

الیکشن کمیشن
اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے تین جون کو ضمنی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا
الیکشن کمیشن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کو مزید دو ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اب یہ انتخابات اٹھارہ اگست کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے اس غیر متوقع اعلان میں کہا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبیلوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کو صوبہ سرحد میں امن و اماں کی خراب صورت حال، مرکز اور صوبوں کی اسمبلیوں میں بجٹ اجلاسوں اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال کی بنا پر ان کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

ادھر حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لیجانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ’غیرجمہوری اقدام پر حکومت یا کسی سیاسی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ غیر جمہوری قوتیں سرگرم ہیں جو نہیں چاہتی کہ جمہوریت کے قدم نہ جم پائیں۔‘

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے بھی ایک بیان میں اس التوا کی مذمت کی ہے۔

سازش کی بو
 ان انتخابات کے دوسری مرتبہ التواء سے نا صرف سازش کی بو آ رہی ہے بلکہ یہ آئین سے بھی متصادم ہے
آصف زرداری

شیری رحمان نے کہا کہ اس اعلان کی انکوائری بھی کرائی جائے گی۔ اس معاملے پر مزید غور وزیر اعظم کی ملتان سے واپسی اور آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کی قیادت سے ملاقات میں ہوگا۔

ضمنی انتخابات دوسری بار ملتوی کیے گئے ہیں اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے تین جون کو ضمنی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا تاہم انہیں نئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کی بنا پر اٹھارہ جون تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

اس وقت کمیشن کا موقف تھا کہ اسمبلی اجلاسوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ان ضمنی انتخابات کے سلسلے میں اُمیداروں کو ٹکٹ جاری کر سکیں لہذا سیاسی جماعتوں کو سہولت دینے کے لیے ضمنی انتخابات کے شیڈول میں تبدیلی لائی گئی ہے۔

اس مرتبہ انتخابی کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے تھا کہ فیصلہ صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے موصول رپورٹ کی روشنی کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں انہوں نے امن عامہ کی صورتحال کو خراب قرار دیا ہے۔

نیا انتخابی شڈول جلد
 نیا انتخابی شیڈول بہت جلد جاری کر دیا جائے گا تاہم جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں انہیں دوبارہ کاغذات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی
الیکشن کمیشن

ان کا کہنا تھا کہ نئی تاریخ کے لیے نیا انتخابی شیڈول بہت جلد جاری کر دیا جائے گا تاہم جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں انہیں دوبارہ کاغذات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سیاسی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوبارہ التواء پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام انتخابات کے بعد سے ملک بھر میں عمومی طور پر امن عامہ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

یہ ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی آٹھ اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستوں پر ہونے ہیں۔

قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے دو نشستوں پر پہلی مرتبہ انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ ایک سو انیس اور دو سو سات ہے جہاں پر اُمیدواروں کی موت کی وجہ سے وہاں پر انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔

پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو این اے 207 سے اُمیدوار تھیں لیکن ستائیس دسمبر کو ان کی ہلاکت کے بعد اس حلقے میں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے اُمیدوار طارق بانڈے کی وفات کے بعد اس حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے ۔

قومی اسمبلی کی چھ نشتیں ان ارکان قومی اسمبلی نے خالی کی ہیں جو کہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی سرفہرست ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی جس میں سے انہوں نے اپنے آبائی شہر ملتان کی نشست اپنے پاس رکھی ہے جبکہ لاہور اور راولپنڈی کی نشستیں خالی کر دی ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کے جن حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے تین، بلوچستان کے تین اور صوبہ سرحد کے سات حلقے شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ان ضمنی اتنخابات میں حصہ لینے کے لیے اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

آصف زرداری کی مذمت

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے التوا کی مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کے اصل حقائق جاننے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ التوا کے لیے دی جانے والی وجوہات معتبر نہیں ہیں۔

ان کا موقف تھا کہ آئین کی شق 224 (4) کے تحت انتخابی کمیشن کا یہ فرض ہے کہ نشست خالی ہونے پر ساٹھ دن کے اندر انتخاب کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے دوسری مرتبہ التواء سے نا صرف سازش کی بو آ رہی ہے بلکہ یہ آئین سے بھی متصادم ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت تین اور اٹھارہ جون کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق نے بھی التواء کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
خاران میں ضمنی انتخابات
28 May, 2005 | پاکستان
این اے 127 پر ضمنی انتخابات
06 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد