BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 May, 2008, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات کا التواء کیونکر، واضح نہیں

ووٹنگ کا عمل
یہ ضمنی انتخابات چونکہ عام انتخابات کا تسلسل ہیں لہذا ان کا ایک ساتھ تمام صوبوں میں ہونا لازمی ہے: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے التواء سے متعلق چل رہا تنازعہ ابھی جاری ہے اور منگل کی دوپہر تک وفاقی مشیر برائے داخلہ رحمان ملک کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا۔ سرحد حکومت کے اس بیان کے بعد کے اس نے التواء کی درخواست رحمان رحمٰان ملک کے کہنے پر دی تھی وفاقی مشیر نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری کریں گے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے دوپہر تک ان سے التواء کے معاملے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے جو فیصلہ کرنا تھا کر دیا اب جو بھی صورتحال بنے گی وہ دیکھ لیں گے۔

سازش کی باتیں
 یہ ان عناصر کی کارروائی ہوسکتی ہے جو حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے متعلق نہ تو حکومت اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے مشاورت کی گئی تھی
شیر رحمٰان
سرحد حکومت کے کل کے بیان کے بعد کہ اس نے انتخابی کمیشن کو التواء کی درخواست رحمان ملک کی درخواست پر دی تھی سب حیران ہیں۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سرحد کی حکومت کی جانب سے اگر ضمنی انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کی درخواست موصول ہوتی ہے تو کمیشن اس پر غور کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی شیڈول میں رد و بدل ممکن ہے۔

وفاقی حکومت نے اس التواء پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ یہ ان عناصر کی کارروائی ہوسکتی ہے جو ان کی حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے متعلق نہ تو حکومت اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے مشاورت کی گئی تھی۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں ان متضاد بیانات سے وفاقی حکومت کے اندر رابطوں کی کمی دکھائی دے رہی ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت نے اعتزاز احسن کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے ہیں۔ ’وہ لڑنا چاہتے ہیں ضرور لڑیں ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ آصف علی زرداری اور مجلس عاملہ نے کرنا ہے۔‘

کنور دلشاد کا اصرار تھا کہ یہ ضمنی انتخابات چونکہ عام انتخابات کا تسلسل ہیں لہذا ان کا ایک ساتھ تمام صوبوں میں ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل نئے اعلامیے کی وجہ سے ختم ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد