BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 May, 2008, 21:44 GMT 02:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف، الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ

نواز شریف
نواز شریف نے وطن واپسی پر عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے
مسلم لیگ نون کےقائد نواز شریف نے جون میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کی تصدیق مسلم لیگ نواز کے ترجمان پرویز رشید نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کی ہے۔

پاکستان میں آئندہ ماہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی خالی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات ہورہے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اورسپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن سمیت دیگر جماعتوں کے کئی رہنما حصہ لینے کا اردادہ رکھتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار پندرہ اپریل سے چھ مئی تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں جبکہ انتخابات اٹھارہ جون کو ہونگے۔

پرویز رشید کے بقول نواز شریف نے وطن واپسی پر عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئےاور نواز شریف نے ملک میں پی سی او ججوں کی موجودگی کی وجہ کاغذات کو مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ آج بھی پاکستان میں پی سی او کے تحت حلف لینے والی عدلیہ موجود ہے اور اسی بنا پر نواز شریف ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے کیونکہ ان کے بقول پہلے والی صورت حال برقرار ہے۔

ادھر مسلم لیگ نون کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف جن کے کاغذات بھی ایک فوجداری مقدمہ کی وجہ سے مسترد کردیئے گئے تھے، ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اوران کا ارادہ لاہور سے صوبائی اسمبلی کی نشست ایک سوچون سے انتخاب لڑنے کا ہے۔اس حلقہ میں انتخاب سے چند گھنٹے قبل مسلم لیگ نواز کے امیدوار چودھری آصف اشرف ایک قاتلانہ حملے میں قتل ہوگئے تھے۔

شہباز شریف کے قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ جس فوجداری مقدمہ کی وجہ سے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے وہ اس مقدمہ سے بری ہوچکے ہیں اور ان کے انتخاب لڑنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز بھی ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیےحصہ لیں گےاور وہ اپنے خاندان کی آبائی نشست ایک سو انیس سے امیدوار ہیں۔اس حلقہ میں مسلم لیگ ق کے امیدوار طارق بانڈے کے انتقال کی وجہ سے چناؤ ملتوی کردیا گیا تھا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی واحد رکن اسمبلی ہیں جو بیک وقت لاہور، ملتان اور راولپنڈی سے منتخب ہوئے ہیں انہوں نے لاہور اور راولپنڈی کے نشست خالی کردی اور ان کی راولپنڈی کی خالی کردہ نشست پر آصف علی زرداری اور اعتزاز احسن دونوں ہی انتخاب لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اٹھارہ جون کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پنجاب کابینہ کی دو وزراء رانا ثناء اللہ اورمجتنی شجاع الرحمن بھی حصہ لے رہے ہیں جن کے صوبائی حلقوں میں انتخاب ملتوی ہوگیا تھا تاہم وہ انتخاب لڑے بغیر وزیر بن گئے۔

خیال رہے کہ اٹھارہ جون کو ہونے والے ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی آٹھ اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستوں پر ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے دو نشستوں پر پہلی مرتبہ انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ ایک سو انیس اور دو سو سات ہے جہاں پر اُمیدواروں کی موت کی وجہ سے وہاں پر انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو این اے دو سو سات سے اُمیدوار تھیں لیکن ستائیس دسمبر کو ان کی ہلاکت کے بعد اس حلقے میں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو انیس میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے اُمیدوار طارق بانڈے کی وفات کے بعد اس حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے

صوبائی اسمبلیوں کے جن حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے تین، بلوچستان کے بھی تین اور صوبہ سرحد کے سات حلقے شامل ہیں۔

اسی بارے میں
چاند دیکھو چاند
29 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد