BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 April, 2008, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چاند دیکھو چاند

آصف اور نواز
ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو کسی نے ان بحرانوں کے بارے میں کوئی واضح پالیسی بیان دیا اور نہ ہی کوئی فعال قدم اٹھایا
ایک پرانی چینی کہاوت ہے کہ جب انگلی چاند کی طرف اشارہ کرتی ہے تو احمق انگلی کو دیکھتا ہے۔ کیا آجکل پاکستان کی سیاست کا بھی کچھ ایسا ہی حال نہیں؟

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں تقریباً نو سال کی سیاسی دشت نوردی کے بعد ملک کے تجربہ کار اور عوام میں مقبول سیاستدانوں کو اقتدار واپس ملا۔ یہ ایک ایسے وقت ہوا جب عوام بجلی، آٹے اور دہشتگردی جیسے بحرانوں سے لڑتے لڑتے نڈھال ہو چکے تھے۔ لیکن ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو کسی نے ان بحرانوں کے بارے میں کوئی واضح پالیسی بیان دیا اور نہ ہی کوئی فعال قدم اٹھایا۔ اگر کوئی بات ہوئی تو صرف اور صرف یہ کہ اعلٰی عدالتوں کے برطرف جج تیس دنوں کے اندر اندر بحال ہونگے یا نہیں۔

فرض کیجئے کہ کوئی ایسا معجزہ ہو جاتا ہے کے معزول جج تیس اپریل سے پہلے پہلے بحال ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا بجلی، آٹے، مہنگائی اور دہشتگردی کے مسائل بھی خود بخود ہی حل ہو جائیں گے؟ شائد ہی کوئی اس کا جواب اثبات میں دے سکے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ عوام کے مسائل سے ہٹ کر نئی مخلوط حکومت کی تمامتر توجہ صرف اور صرف معزول ججوں کے معاملے پر ہی کیوں مرکوز ہے؟

قریباً دو ہفتے قبل جمیعت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔ سیاست کا ذکر چلا تو مولانا اپنے مخصوص مدبرانہ انداز میں کہنے لگے کہ جمیعت علماء اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی اس بات پر متفق ہیں کہ اس وقت ایک کمزور صدر ہی موجودہ سیاسی حکومت کے مفاد میں ہے۔

منطق کچھ یوں ہے کہ صدر خواہ کوئی بھی ہو، صدر کا عہدہ بہرحال ایک آئینی عہدہ ہے اور موجودہ آئین کے مطابق ملک کا طاقتور ترین عہدہ ہے۔ اور اگر شخص کی بجائے عہدے کو دیکھا جائے تو کیا بہتر نہیں کہ جب تک نئی حکومت صدارتی اختیارات میں سے ڈنک نہ نکال لے تب تک سیاسی طور پر ایک مسترد شدہ شخص کو ہی اس عہدے پر قائم رکھا جائے۔ ایسا شخص اگر کوئی سازش کرنا بھی چاہے گا تو اس سے نبٹنا نسبتاً آسان ہو گا۔ اس کے مقابلے میں اگر اس وقت صدر مشرف کو ہٹا کر ایک نئے صدر کو آئین کے مطابق منتخب کر لیا جائے تو ایوان صدر کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہو گا۔

افتخار اور خاندان
کیا ججوں کی بحالی سے بجلی، آٹے، مہنگائی اور دہشتگردی کے مسائل بھی خود بخود ہی حل ہو جائیں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق صرف میاں نواز شریف کو اس منطق پر تحفظات ہیں۔ دوسروں سے بھی ابھی تک یہی سننے کو ملا ہے کہ میاں نواز شریف کسی صورت بھی صدر مشرف کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔

اس پس منظر میں اب ایک نظر موجودہ سیاسی بساط پر بکھرے ہوئے مختلف مہروں پر ڈالیے۔ یہاں سب سے پہلے وکلاء تحریک کے رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نظر آتے ہیں جو کبھی تو الٹی گنتی شروع کر دیتے ہیں اور کبھی لانگ مارچ کی دھمکی داغ دیتے ہیں۔

انتخابات سے قبل انہوں نے اپنی پارٹی کی مخالفت کرتے ہوئے نہ صرف خود انتخابات کا بائیکاٹ کیا بلکہ ڈیڑھ سو سے زائد وکلاء کے کاغذات نامزدگی بھی واپس کرائے اور آخری دن تک عوام کو انتخابات بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔

لیکن ہوا یوں کہ عوام نے ان کی بائیکاٹ کی کال مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ اور صورتحال کچھ یوں بنی کہ اس وقت ان کی اپنی پارٹی، جس سے ان کو ضمنی انتخابات کے ٹکٹ کی امید ہے، ان سے نالاں ہے۔ ان کو ٹکٹ مل بھی گیا تو پارٹی کی نئی قیادت کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے انہیں ازسر نو محنت کرنی ہو گی۔ راولپنڈی کی جس سیٹ سے انہیں ٹکٹ کی امید ہے وہ میاں نواز شریف پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو دے چکے ہیں۔

گویا سوائے معزول ججوں کے معاملے کے، اعتزاز احسن فی الحال اپنے تمام سیاسی اثاثے کھو چکے ہیں۔ اگر اس معاملے سے توجہ ہٹتی ہے تو ان کی سیاست کا نہ تو کوئی سر رہے گا نہ پیر۔ اور اگر معزول ججوں کی بحالی الٹی گنتی ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے تو پھر شاید وہ بحالی کا کریڈٹ بھی پوری طرح نہ لے سکیں۔

دوسرا مہرہ میاں نواز شریف ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد حکومت بنانے کا اختیار پاکستان پیپلز پارٹی کو ملا جبکہ مسلم لیگ نواز کو محض مینڈیٹ ملا۔ ساتھ انہیں یہ سہولت بھی ملی کہ وہ اس مینڈیٹ کی جیسے چاہیں تشریح کریں۔

وکلاء
اگر ججوں کے معاملے سے توجہ ہٹتی ہے تو ان کی سیاست کا نہ تو کوئی سر رہے گا نہ پیر

اب اگر میاں نواز شریف یہ کہیں کہ ان کو مینڈیٹ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ملا تو عوامی مسائل کا تو کوئی فوری حل ہے نہیں۔ البتہ معزول ججوں کے معاملے کو پیٹتے رہنے میں ہر طرح سے فائدہ ہے۔ بحالی کی صورت میں نہ صرف وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے اس کا کریڈٹ لے سکتے ہیں بلکہ جسٹس افتخار چوہدری اور صدر مشرف کی آپس کی لڑائی کو بھڑکا کر صدر کی فوری رخصت کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف جج بحال نہ ہونے کی صورت میں وہ وفاقی حکومت کو شدید دباؤ میں رکھ کر پنجاب میں اپنے قدم مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔

تیسرا مہرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری ہیں جنہیں نو سال جیل میں رہ کر اپنی پارٹی کے دو دور حکومت پر سوچنے کا بھرپور وقت ملا ہے۔ آصف زرداری اس بات پر مکمل طور پر قائل نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کبھی بھی قائم رکھنے کے لیے نہیں لائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی مخالف قوتیں اب بھی ان کے خلاف اتنی ہی تندہی سے کام کر رہی ہیں جتنی کہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں۔

ان کی رائے میں پارٹی کی بقا اسی میں ہے کہ ملک کی سیاسی سمت بدلی جائے۔ اور جس نئی سمت کا تعین وہ کرنا چاہ رہے ہیں اس میں پارٹی اور ریاستی اداروں میں کسی قسم کے تصادم کی کوئی جگہ نہیں۔ بالکل جیسے میاں نواز شریف کی رائے میں جج بحال ہونے سے ان کی سیاست نکھر جائے گی، آصف علی زرداری کے خیال میں ان کے لیے یہ کام صرف اور صرف ایک ایسا آئینی اصلاحاتی پیکج کر سکتا ہے جس کے بعد وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ انہوں نے پاکستان میں نظام بدلنے کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ اور کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری سیاست اپنے مفادات پر کبھی چوٹ نہیں لیتی اس لیے وہ کسی بھی کام میں جلدی کرنے کے حامی نہیں۔

اگر اس تـجزیے سے کوئی یہ نتیجہ نکالے کہ ججوں کا معاملہ اب آئینی اور قانونی حدود سے نکل کر خالصتاً سیاسی میدان میں داخل ہو چکا ہے تو یہ صحیح ہو گا۔

اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ سڑکوں پر مارچ کر کے یہ معاملہ جسٹس افتخار چوہدری خود سیاسی میدان میں لائے تھے۔ خطرہ صرف یہ ہے کہ اس سیاست میں عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ کہیں کھو نہ جائے۔

اٹھارہ فروری کو عوام نے ایک فوجی حکمران کے قائم کردہ نظام کو ٹھکرا کر سیاستدانوں کو ایک نیا چاند دکھایا۔ صدر مشرف میں اعتماد کھونے کے بعد ان کو سیاستدانوں سے بجلی، آٹے، مہنگائی اور دہشتگردی جیسے مسائل سے نجات کی امید تھی۔

اب اگر سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کی خاطر صرف ججوں کے معاملے کو ہی گھسیٹتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ عوام چِلا اٹھیں گے کہ اے احمقو، ہم کب سے چاند کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور تم ہو کہ ابھی تک انگلی کو ہی دیکھے جا رہے ہو۔

زرداری نوازملاقات
’عدلیہ کا بحران اتنا بڑا نہیں جتنا بنایا جارہا ہے‘
چھ نکاتی معاہدہ
سرحد حکومت اور صوفی محمد میں 6 نکاتی معاہدہ
صدرمشرفمشرف مشروط وعدہ
امن ہو، جو بھی حکومت ہوگی سپورٹ کروں گا
بجلیبجلی کا شدید بحران
’شہر میں دس، دیہات میں15 گھنٹے بجلی بند‘
صارفینحکومت کی نااہلی
’گندم کے پیداواری ہدف کا حصول مشکل‘
پروین بی بی’بچے بھوکے ہیں‘
’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘
اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد