کراچی:بجلی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں بجلی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے نئی حکومت نے قلیل مدتی منصوبے کے تحت بجلی کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے کراچی کو پانچ سو میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہوگی اور لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ کراچی کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی مسلسل بجلی کے بحران سے گزر رہی ہے اور اسی بحران پر قابو پانے کے لیے نئی حکومت کے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزیر برائے نج کاری نوید قمر کے ہمراہ کراچی پہنچے جہاں انہوں نے پیر کو ایک اعلٰی سطحی اجلاس کی سربراہی کی۔ اجلاس میں فیصلے کیے گئے کہ کراچی کو پیپکو یعنی پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے دو سو کے بجائے پانچ سو میگاواٹ بجلی کی فوری فراہمی کی جائے جبکہ پیپکو ہی ایک سو چالیس میگاواٹ کا پاور پلانٹ کرائے پر حاصل کرنے کے بعد نوری آباد میں لگا کر چھ ماہ میں بجلی پیدا کرے اور کراچی کو فراہم کرے۔ اس کے علاوہ مزید چار سو میگاواٹ کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا جو تین سال میں بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوگا۔ کے ای ایس سی یعنی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی پہلے ہی دوسو بیس میگاواٹ کا پلانٹ کورنگی تھرمل پاور سٹیشن میں لگا رہی ہے جو مرحلہ وار پیداوار شروع کرے گا اور اس سال جون سے اس پلانٹ سے پچاس میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کے ای ایس سی کی نج کاری کے گزشتہ فیصلے کو کالعدم قرار دیئے جانے پر غور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ای ایس سی کے مالکان سے بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کے ای ایس سی کے مالکان، واپڈا، نیپرا، اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہوں کے علاوہ صوبۂ سندھ کے چیف سیکرٹری اور اعلٰی سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہے اور یہاں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا وزیراعظم کے اعلان کردہ پہلے سودن کی ترجیحات کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات ایسے ہیں جس میں حکومت اور کے ای ایس سی دونوں کی جانب سے کوتاہیاں ہوئی ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں واپڈا کے چیئرمین کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو اپنی رپورٹ دس دن میں پیش کرے گی اور اس رپورٹ کی روشنی میں فیصلے کیے جائیں گے۔ کے ای ایس سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور کویتی نیشنل انڈسٹریز گروپ کے ڈائریکٹر ناصر المالی نے دعوٰی کیا کہ اس سال بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی جبکہ اگلے سال لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ نئی حکومت خامیوں کو دور کرنے میں سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے صارفین میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری ہونے کی وجہ سے کے ای ایس سی کو پینتیس فیصد نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اگر باہر سے آنے والے سرمایہ کار ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں تو پینتیس ملین ڈالر کا نقصان سامنے نظر آتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں عوام میں نہ صرف شعور بیدار کرے بلکہ بجلی کی چوری کو ختم کرنے میں موثر کردار ادا کرے تاکہ بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو۔ راجہ پرویز اشرف نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت نے آنے والی حکومت کے لیے مسائل کا انبار چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے دعوٰی کیا تھا کہ بجلی اتنی پیدا ہورہی ہے کہ برآمد کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوم سے مذاق کے مترادف ہے اور شاید آنے والے دنوں میں کوئی سٹینڈنگ کمیٹی اُن سے پوچھے کہ وہ کون سے اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق اس قسم کے دعوے کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر نے ایک اعلٰی سطحی کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا جس کے ایک ممبر وہ خود ہوں گے اور دوسرے وزیر برائے نجکاری نوید قمر ہوں گے اور یہ کمیٹی مختلف مواقع پر کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ سابقہ حکومت نے بھی سن دوہزار پانچ میں کے ای ایس سی کی نجکاری کے موقع پر دعوے کیے تھے کہ سن دو ہزار سات تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردی جائے گی جس میں کمی تو دور کی بات، مزید شدت آچکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت کے دعوے، دعوے ہی رہتے ہیں یا عملی جامہ بھی پہنتے ہیں۔ | اسی بارے میں بجلی کا بریک ڈاؤن، تحقیقات شروع25 March, 2008 | پاکستان کراچی میں بجلی کا بحران شدید17 March, 2008 | پاکستان بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ07 March, 2008 | پاکستان سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||