کراچی میں بجلی کا بحران شدید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی بجلی کے بحران میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جہاں گھریلو اور صنعتی صارف بجلی کی بار بار اور طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ بجلی کے بحران میں شدت کے پیشِ نظر پانی و بجلی کی وزارت نے اسلام آباد میں منگل کو ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں متعلقہ افسران کے علاوہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر جنرل ریٹائرڈ سید محمد امجد بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں کراچی میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ کراچی میں جہاں ایک جانب بجلی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب کے ای ایس سی یعنی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذمہ داران میڈیا کا سامنا کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں۔ بجلی کی بار بار لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صنعتی اور کاروباری حلقوں کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ کے سی سی آئی یعنی کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ شمس الدین شمسی نے پیر کو بی بی سی کو بتایا کہ بجلی کے اچانک بار بار جانے سے صنعتی مشینری کو بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ پیداواری نقصان اپنی جگہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسی بھی ملک میں برآمد کرنے کے لیے اضافی پیداوار نہ ہو تو معیشت کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے اور بجلی کے بار بار جانے کی وجہ سے صنعتی شعبے کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ کراچی کے ایک صنعت کار اور کے سی سی آئی کے سابق صدر مجید عزیز کہتے ہیں کہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ آٹھ سے دس گھنٹے تک کی جا رہی ہے جبکہ ابھی مارچ کا مہینہ ہے اور مئی، جون، اور جولائی کے مہینوں میں اس کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوجائےگا کیونکہ کے ای ایس سی کے پاس بجلی کی پیداوار بڑھانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات اس وقت ویسے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور بجلی کی اس طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے برآمدی اہداف پورے کرنا مشکل نظر آ رہے ہیں جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہونے کا امکان ہے۔ عام لوگ بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشان ہیں۔ عارف صارف محمد سلیم نے کہا کہ جب سے یہ ملک بنا ہے تمام حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھری ہیں اور عوام کے لیے کچھ نہیں کیا اور بجلی سمیت جتنے بھی بحران ہیں یہ ان ہی حکمرانوں کی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔ کے ای ایس سی کے اعداد و شمار کے مطابق اگر کے ای ایس سے کے بجلی پیدا کرنے کے تمام یونٹ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ان کی پیداواری صلاحیت بارہ سو میگاواٹ ہے اور نجی کمپنیوں سے یہ چار سو میگاواٹ بجلی خریدتی ہے جبکہ واپڈا سے اسے دو سو میگاواٹ بجلی موصول ہو رہی ہے جس کے بعد کے ای ایس سی کراچی کو اٹھارہ سو میگاواٹ بجلی دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہ واضح رہے کہ کسی بھی تکنیکی خرابی کے باعث بجلی کی فراہمی میں کئی سو میگاواٹ کی اچانک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بجلی کی موجودہ طلب دو ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے اور گرمیوں میں یہ طلب ڈھائی ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کرجائے گی۔ اس وقت جبکہ کہ کے ای ایس سی کو بجلی کی طلب اور رسد میں چار سو سے پانچ سو میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے گرمیوں میں یہ کمی آٹھ سو سے ایک ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے جس سے شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہوگا اور اس وجہ سے شہر میں گذشتہ سالوں کی طرح ہنگامے بھی ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی میں گھنٹوں بجلی منقطع06 March, 2008 | پاکستان ملک میں الیکشن، ہمیں اس سے کیا06 February, 2008 | پاکستان ’قیمتیں کم کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘11 January, 2008 | پاکستان کراچی: بجلی کے لیے 9 ارب کا قرضہ04 June, 2007 | پاکستان بازار رات نوبجےتک کھولنے کی اجازت09 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||