کراچی میں گھنٹوں بجلی منقطع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کی فراہمی بری طرح منقطع ہوئی ہے جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہمی کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کا کہنا ہے کہ واپڈا کی جانب سے تین سومیگاواٹ کی فراہمی منقطع کرنے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا ہے، جبکہ واپڈا کا کہنا ہے کہ بجلی ترسیل کے ای ایس سی کی جانب سے عدم ادائیگی کی وجہ سے منقطع کی گئی ہے۔ جمعرات کی صبح جب لوگ دفتروں اور سکولوں کو جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان سید سلطان احمد کا کہنا ہے کہ صبح آٹھ بجے واپڈا نے تین سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی معطل کردی جس کی وجہ سے نظام میں خلل پیدا ہو گیا اور شہر میں بجلی مکمل طور پر بند ہوگئی ۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے ڈائریکٹر بشارت چیمہ کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کو بجلی کی فراہمی بقایاجات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بند کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ذمے 34 ارب 80 کروڑ روپے واجب الادا ہیں اور ادارے کو کئی بار تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے مگر اس طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ کے ای ایس سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بقایاجات بہت پرانے ہیں جن پر بار بات چیت کے لیے اسلام آباد میں کئی مرتبہ اجلاس ہوتے رہے ہیں مگر ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی بجلی بند کرنا انصاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق واپڈا نے بدھ کو فیکس کے ذریعے ایک خط میں کہا تھا کہ تین ارب روپے فوری طور پر ادا کردیں۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے ڈائریکٹر بشارت چیمہ ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آخری نوٹس پہلی مارچ کو دیا گیا تھا مگر کے ای ایس سی اسے نظر انداز کرتی رہی۔’ اس لیٹر میں کم سے کم تین ارب روپے ادا کرنے کے لیے اور باقی رقم کی ادائیگی کے لیے طریقۂ کار واضح کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ حکومت کی مداخلت پر واپڈا نے صبح نو بجے فراہمی بحال کردی تھی، جس کے بعد دوپہر بارہ بجے کے بعد شہر کے کچھ علاقوں میں بجلی کی بحال ہوسکی اور شام تک ساٹھ فیصد علاقے بجلی سے محروم تھے۔ بشارت چیمہ کا کہنا ہے کہ اس بریک ڈاؤن کا ذمہ دار ان کا ادارہ نہیں بلکہ کے ای ایس سی ہے وہ اسے بلیک میلنگ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یکم جنوری کو حبکو ٹرانسمیشن لائین میں خرابی ہوئی تھی جس وجہ سے ملک بھر کو بارہ سو میگاواٹ کی فراہمی بند ہوگئی تھی۔ واپڈا کے سسٹم کو تو کچھ نہیں ہوا تھا۔ ان بارہ سو میگاواٹ میں سے تین سو میگاواٹ کراچی کو فراہم کیے جاتے تھے جو نہ ملنے کی وجہ سے کراچی کا نظام اس وقت ٹرپ کیوں نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی گئی تھی، جس کے بعد سے یہ ادارہ مسائل کا شکار رہا ہے۔ ہر سال بجلی کی طلب زیادہ اور سپلائی کم ہونے کی وجہ سے شہر میں لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں چھتیس فیکٹریاں تباہ، کرفیو کا مطالبہ29 December, 2007 | پاکستان ’قیمتیں کم کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘11 January, 2008 | پاکستان کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان پن بجلی: سرحد میں نئی پالیسی کا اعلان07 September, 2006 | پاکستان کراچی میں بجلی کا شدید بحران 14 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||