تیل کی قیمتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر عام لوگوں، ٹرانسپورٹروں اور پیٹرول پمپ مالکان نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی مزید بڑہ جائے گی، اس صورتحال میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے سے بچنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناکر قیمتیں بڑھانے کو عام لوگ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یک مشت اضافے سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔ محمد شکیل نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ تمام ٹرانسپورٹ کا دارومدار پیٹرول اور ڈیزل پر ہے جب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو ظاہر ہے کرایوں میں اضافہ ہوگا اور یہ اضافہ دکاندار لوگوں سے وصول کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب چھوٹے ہوتے تھے تو اگر کسی چیز کی قیمت میں دس پیسے اضافے ہوتا تھا تو ہنگامہ کھڑا ہوجاتا، اب پانچ دس روپے بڑھ جاتے ہیں تو مگر حکومت سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے‘۔ ایک مزدور کا کہنا تھا کہ حکومت نے غریب عوام کے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے غریب عوام پہلے ہی پریشان ہیں، دال کی قیمت بھی ایک سو روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ ایک خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ اب جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے، پہلے سو روپے کی بڑی حیثیت ہوتی تھی، اب وہی سو روپے کا نوٹ ایسے خرچ ہوجاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ ان کے مطابق جس حساب سے مہنگائی ہو رہی ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ دال چاول کھانا بھی بہت مشکل بن جائے گا۔ محمد سلیم حلیم بیچتے ہیں وہ تعیلم یافتہ ہیں اور کہتے ہیں کہ مہنگائی اور بیروزگاری نے ٹھیلے لگانے پر مجبور کردیا ہے، اب مزید کیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ووٹ دیے ہیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور مہنگائی بڑھ گئی ہے۔
ایک سرکاری ملازم کا کہنا ہے کہ بہت برے حالات ہیں خدا حکمرانوں کو ہدایت دے، کل لوگ سڑک پر آجائیں گے پھر کچھ روز کے بعد اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی۔ پمپ اور فلنگ سٹیشن مالکان کی تنظیم پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن بھی اس فیصلے سے ناخوش ہے، ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسز میں ردو بدل سمیت اور کوئی راستہ بھی اختیار کرنا پڑےگا ۔ تنظیم کے سربراہ محمد سمیع کا کہنا ہے کہ حکومت نے متبادل توانائی کے منصوبے پر نہ کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے اور نہ ہی اس پر کام کیا ہے۔ ’ہم چار سال سے سن رہے ہیں کہ تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل ہوجائے گی، اس کے باوجود حکومت نے کوئی کام تو کیا نہیں،اب جب ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا تو ایکدم قیمتیں بڑھے گا دیں ان قیمتوں کو آہستہ آہتسہ بڑھاتے اور کوئی طریقے تلاش کرتے‘۔ ان کا کہنا تھا حکومت کے موجودہ فیصلے سے موٹر سائیکل والے نوجوان زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ وہ مشکل سے روزگار تلاش کرتے ہیں۔ پہلے ہی چار ماہ سے اتنی مہنگائی ہو چکی ہے، اب خدا رحم کرے۔ ٹرانسپورٹروں نے حالیہ اضافے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے، کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف وہ احتجاج کریں گے کیونکہ انہیں بھی کرایوں میں اضافے کی اجازت دی جائے۔
ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کو اس فیصلے کا کوئی اختیار ہی حاصل نہیں ہے۔ ’ان کا کوئی حق نہیں بنتا، انہیں الیکشن کروانے کے لیے بلوایا گیا تھا، قیمتیں بڑھانے اور لوگوں پر ظلم کرنے کے لیے تو نہیں بلایا گیا تھا۔ انہیں یہ فیصلہ منتخب حکومت کے لیے چھوڑ دینا چاہیے تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سبسڈی دے رہی تھی تو صدر یا وزیراعظم اپنی جیب میں سے تو نہیں دے رہے تھے لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ اب سبسڈی ختم کرکے لوگوں پر بوجھ ڈال دیا ہے، پہلے ہی لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ارشاد بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی شاہ خرچیاں بھی دیکھے، صدر مشرف نے چار روز کے دورے پر اسی لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ وہ ملک کے شہنشاہ ہیں یا بادشاہ انہیں عوام کا خیال نہیں ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلے سے عام استعمال کی چیزوں سے لے کر تمام ہی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان کی ترسیل کے اخراجات بڑھیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت کے پاس یک مشت اضافے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا؟ تجزیہ نگار نوید وکیل کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے پاس یہی فوری حل تھا یا تو حکومت قیمتوں کے تعین کے طریقے کار میں کوئی تبدیلی لاتی مگر وہ اتنی جلدی نہیں آ سکتی تھی حالانکہ اس سے کچھ کمی بیشی ہوسکتی تھی۔ مگر یہ اتنا آسان فارمولا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر اس طریقے کار میں تبدیلی ہو سکے‘۔ نوید وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہم توانائی کے متبادل طریقوں میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں پھر چاہے پن بجلی ہو، ہائیڈرو یا بائیو فیول اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر رہیں تو ہوسکتاہے متبادل توانائی پر کام شروع ہو سکے‘۔ عام لوگ کی نگاہیں آنے والی حکومت پر ہیں کہ وہ کس طرح روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی میں رلیف دیتی ہے، سابق حکمران اتحاد نے اپنی شکست کا جواز بھی آٹے، تیل اور بجلی کے بحران کو قرار دیا تھا اور آنے والی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز سمیت معاشی چلینجوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||