دس برس: مہنگائی میں سو فیصد اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ دس برسوں میں بعض کھانے پینے اور کئی تعمیراتی اشیاء کی قیمتوں میں ایک سو فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس سے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ یہ بات حکومتی سینیٹر نثار میمن کے سوال کے جواب میں اقتصادی امور اور شماریات حنا ربانی کھر نے جمعرات کے روز ایوان بالا سینیٹ میں پیش کردہ تحریری جواب میں بتائی ہے۔ حکومت کی جانب سے نو جون سنہ چھیانوے سے جون سنہ دو ہزار چھ تک سالانہ بنیاد پر قیمتیں دی گئیں ہیں لیکن یہاں ترتیب وار جون چھیانوے، جون ننانوے اور جون دو ہزار چھ تک کی قیمتیں دی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ نومبر چھیانوے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور اکتوبر ننانوے میں صدر مشرف نے اس وقت کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا تھا۔ چھیانوے میں دودھ کی قیمت فی لٹر تیرہ روپے تھی جو جون سن ننانوے میں سترہ روپے اور جون سن دوہزار چھ میں چوبیس روپے ہو چکی ہے۔ اس طرح خوردنی تیل کے ڈھائی کلو والے تیل کے ڈبے کی قیمت ایک سو بائیس روپے، ننانوے میں ایک سو ستر روپے اور اب دو سو چار روپے ہوگئی ہے۔ گائے کا گوشت جو چھیانوے میں فی کلو سینتالیس روپے تھا، سنہ ننانوے میں چّون روپےاور اب ایک سو نو روپے فی کلو ہو چکا ہے جبکہ بکری کےگوشت کی قیمت بانوے روپے سے ایک سو دو روپے اور اب دو سو چار روپے فی کلو ہے۔مچھلی چھیانوے میں انہتر روپے، ننانوے میں تراسی اور اب ایک سو بیس روپے کلو بک رہی ہے۔ انڈے فی درجن انیس روپے، بائیس اور اب انتیس روپے ہو چکے ہیں۔ دال ماش کی قیمت چھیانوے میں فی کلو تینتیس روپے، ننانوے میں بتیس روپے اور اب انہتر روپے ہوگئی ہے۔ چائے کا ڈھائی سو گرام کا ڈبہ بیالیس روپے سے ستاون اور اب ستتر روپے کا ہوگیا ہے۔ نثار میمن کے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں حنا ربانی کھر نے ایوان کو بتایا ہے کہ جون چھیانوے میں سیمنٹ کی فی بوری ایک سو پچھہتر روپے تہتر پیسے تھی جو اب دو سو چھیانوے روپے کی ہوچکی ہے۔ جبکہ ان کے مطابق ایک ہزار پکی اینٹیں جو ایک ہزار تین سو اکتیس روپے کی تھیں وہ اب دو ہزار سات سو ارسٹھ روپے کی ہو چکی ہیں۔ سریا اکیس ہزار ایک سو چھیالیس روپے فی ٹن سے تینتیس ہزار دو سو نوے روپے فی ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ شیشم کی لکڑی فی کیوبک میٹر آٹھ ہزار سات سو تراسی روپے سے بڑھ کر اکیس ہزار آٹھ سو تریپن روپے ہوچکی ہے۔ دریں اثنا قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز وقفہ سوالات میں محمد شاکر صفدر کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے سن دو ہزار پانچ اور چھ میں مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجہ مانگ اور فراہمی میں فرق پیدا ہونا بتایا ہے۔ ان کے مطابق گندم کی امدادی قیمت بڑھائی گئی اور بارشیں کم ہونے سے کاشت بھی کم ہوئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے عوام کو یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے کھلی منڈی سے کم قیمت پر اشیاء فراہم کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بیشتر سرکاری سٹورز شہروں میں قائم ہیں جبکہ ملک کی سولہ کروڑ آبادی کا اکثر حصہ دیہات میں رہتا ہے۔ حکومت نے ایک روز قبل جو اعداد وشمار پیش کیے تھے اس کے مطابق پاکستان کے ایک تہائی رقبے اور پینسٹھ لاکھ سے زائد آبادی والے صوبے بلوچستان میں جتنے یوٹیلیٹی سٹورز ہیں اس سے زیادہ چھ لاکھ کے قریب آبادی کے شہر اسلام آباد میں قائم ہیں۔ جبکہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب آبادی والے شہر کراچی کی نسبت ان سٹورز کی تعداد اٹھارہ لاکھ کے قریب آبادی والے شہر راولپنڈی میں زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں ایک خط: بجٹ سے ’مہنگائی آوے ہی آوے‘16 June, 2006 | پاکستان پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان تین کھرب کے خسارے کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||