’قیمتیں کم کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹے اور توانائی کا بحران بدستور جاری ہے اور تین روز قبل نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کی جانب سے گندم اور آٹا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کے حکم پر تاحال عمل نہیں ہوسکا۔ نگراں وزیراعظم نے آٹھ جنوری کو کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کا اجلاس بلاکر اس میں چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ آٹا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرکے ان پر جرمانے عائد کیے جائیں۔ پاکستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آٹے کا بحران جاری ہے اور گزشتہ دو ہفتوں سے بجلی اور گیس کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دیہی علاقوں میں روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے جبکہ شہروں میں تین سے پانچ گھنٹے تک بجلی کی اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ آٹے کے بحران کے بارے میں تو وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی لیکن بجلی اور گیس کی قلت کا سرسری ذکر کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ جب تک حکومت متبادل انتظام کرے اس وقت تک توانائی کم سے کم استعمال کریں۔ حکومت کی عدم دلچسپی اور سیاسی مصلحت کے بارے میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم احسان اللہ خان سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’نگران حکومت کا مینڈیٹ شفاف الیکشن کرانا ہے قیمتوں کو اوپر نیچے کرنا نہیں‘۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ غریب عوام کا ہے کہ نگران حکومت ان پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔ ان کے مطابق نگران حکومت چاہتی ہے کہ طویل المدت فیصلے آئندہ انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کرے۔ حکومت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اضافی بتیاں نہ جلائیں، بجلی کے ہیٹر نہ استعمال کریں اور گیس کے چولہے، ہیٹر اور گیزر بوقت ضرورت چلائے جائیں۔ توانائی بچانے کے بارے میں اشتہارات بھی شایع کرائے گئے جس میں بجلی، گیس اور تیل کا کم سے کم استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ پاکستان بھر میں اول تو آٹا موجود نہیں اور اگر کہیں ہے بھی تو مہنگا اتنا ہے کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں فی کلو آٹا پچیس سے پینتیس روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ آٹے کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے تین ہفتے قبل خصوصی اجلاس بلاکر گندم برآمد کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا لیکن تاحال صورتحال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے اور آٹے کا بحران مصنوعی ہے۔ ان کے مطابق بازار میں گندم کی قیمت فی چالیس کلو گرام ساڑھے سات سو روپے ہوگئی ہے ۔ لیکن حکومت آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے فلور ملز کو چار سو پیسنٹھ روپے فی من گندم فراہم کر رہی ہے۔ وزارت خوراک کے حکام کہتے ہیں کہ فلور ملز مالکان حکومت سے سستے داموں گندم خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں یا پھر بازار میں مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔
صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’دی نیٹ ورک‘ کے سربراہ ڈاکٹر طالب لاشاری کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ حکومت کی نا اہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم ملک میں ضرورت سے زیادہ موجود ہے لیکن قلت کا بہانہ بنا کر ایک تو کرپٹ بیوروکریٹ مہنگے داموں بیرون ملک سے گندم خرید رہے ہیں اور حکومت جان بوجھ کر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ضلعی سطح پر پرائس کنٹرل کمیٹیاں موجود ہیں لیکن ضلع ناظمین اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق نگراں حکومت ہو یا ضلع ناظمین، وہ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے انتخابات سے پہلے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتے اس لیے آٹے کا بحران ختم نہیں ہورہا۔ پاکستان میں امسال گندم کی پیداوار دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن ہوئی اور تقریباً چار لاکھ ٹن سٹاک پچھلے سال کا تھا۔ یوں اس برس کل دو کروڑ سینتیس لاکھ ٹن کا سٹاک تھا۔ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت دو کروڑ بیس لاکھ ٹن ہے جس میں افغانستان کو دیا جانے والا ساٹھ لاکھ ٹن بھی شامل ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس افراط کا اعلان کرکے پانچ لاکھ ٹن گندم برآمد کردی تھی۔ جس قیمت پر پاکستان نے گندم بیچی تھی اب سے دوگنی قیمت پر خرید رہا ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان ’دکانیں آٹھ بجے بند نہیں کریں گے‘07 May, 2007 | پاکستان ’بجلی کا بحران دس دن جاری رہے گا‘04 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||