BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 March, 2008, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجلی بحران: کراچی میں لوڈشیڈنگ

بجلی
واپڈا نے جمعرات کے روز کے ای ایس سی کو تین سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی معطل کر دی تھی
کراچی میں دوسرے روز بھی بجلی کا بحران جاری ہے جس سے نمٹنے کے لیے دو سے تین گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جبکہ واپڈا نے کے ای ایس سی کو ایک سو میگاواٹ فراہمی تک محدود کردیا ہے۔

گزشتہ روز واپڈ نے عدم ادائیگی پر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو تین سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی معطل کردی تھی۔ اس معطلی کے دوران کے ای ایس سی کے نظام میں خلل پیدا ہوگیا تھا اور شہر میں پانچ گھنٹے تک مکمل طور بجلی بند رہی۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان سید سلطان احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں دو ہزار میگاواٹ بجلی کی کھپت ہے جس میں جمعہ کے روز دو سو میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واپڈا نے تین سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے بجائے ایک سو میگاواٹ تک محدود رکھا ہوا۔

انہوں نے مزید کہا ’ایٹمی بجلی گھر اور ڈیفنس بجلی گھر میں فنی خرابی کے باعث پیداوار نہیں ہو رہی۔ ان دونوں یونٹوں سے ایک سو بیس میگاواٹ بجلی حاصل ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ بجلی کی کمی سے نمٹنے کے لیے دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور شہر کے باون گرڈ اسٹیشنوں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ کو ترتیب وار بند کر کے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

بجلی فراہم کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے ڈائریکٹر بشارت چیمہ کا کہنا ہے کہ واپڈا کی جانب سے بجلی بحال ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ کے ای ایس سی کو ایک سو میگاواٹ تک محدود کیا گیا تھا مگر وہ دو سو اسی میگاوٹ تک بجلی لے رہے ہیں۔

واپڈا
واپڈا کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کے ذمہ چونتیس ارب اسی کروڑ روپے واجب الادا ہیں

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا تو پندرہ فیصد بجلی فراہم کر رہا تھا جبکہ پچاس فیصد پیداوار تو ان کی اپنی ہے۔ ’وہ اس کو کیوں بہتر نہیں کرسکے ہیں۔‘

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بقایاجات کی ادائیگی کا فیصلہ کے ای ایس سی، واپڈا اور پیپکو آپس میں مل کر کریں گے۔

واضح رہے کہ واپڈا نے جمعرات کے روز کے ای ایس سی کو تین سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی معطل کر دی جس وجہ سے نظام میں خلل پیدا ہو گیا اور شہر میں بجلی مکمل طور پر بند ہوگئی۔

بجلی فراہم کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کا کہنا تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ذمے چونتیس ارب اسی کروڑ روپے واجب الادا ہیں اور ادارے کو کئی بار تحریری طور پر آگاہ کیا گیا مگر اس طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

دوسری طرف کے ای ایس سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بقایاجات بہت پرانے ہیں جن پر بات چیت کے لیے اسلام آباد میں کئی مرتبہ اجلاس ہوتے رہے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی بجلی بند کرنا انصاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق واپڈا نے بدھ کو فیکس کے ذریعے تین ارب روپے فوری طور پر ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔

حکومت کی مداخلت پر واپڈا نے صبح نو بجے فراہمی بحال کردی تھی مگر پورے شہر میں رات کو دس بجے کے قریب بجلی بحال ہوسکی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد