بجلی کا بریک ڈاؤن، تحقیقات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات معلوم کرنے اور اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ بات منگل کے روز منیجنگ ڈائریکٹر پیپکو منور بصیر احمد نے واپڈا ہاؤس، لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی سینئر جنرل منیجر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جس کا مذکورہ معاملہ کے بارے میں ایک اجلاس بھی ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اعلی سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے اور 72 گھنٹے میں حتمی رپورٹ پیش کرےگی۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل ملکی سطح کا بریک ڈاؤن ہوا تھا لیکن منگل کے روز ہونے والا بجلی کا بریک ڈاؤن کچھ اضلاع تک محدود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے جو 72 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرےگی۔ مینجنگ ڈائریکٹر پیپکو منور بصیر احمد نے کہا ہے کہ منگل کی صبح نو بج کر پانچ منٹ پر ہونے والا بجلی کا بر یک ڈاؤن پانچ سو کے وی کے مظفر گڑھ گٹی گرڈ سٹیشن کے سسٹم میں خرابی پیدا ہونے سے ٹرانسمیشن لائن پر ٹرپنگ کی وجہ سے ہوا جس کی باعث فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد سمیت کئی اضلاع کو بجلی کی سپلائی بند ہو گئی۔ پیپکو نے فوری اقدامات کر کے نو بج کر چالیس منٹ تک اسلام آ باد کو بجلی کی سپلائی بحال کر دی اور سوا گیارہ بجے لاہور کا ایک سرکٹ بحال کر دیا گیا جبکہ سوا تین بجے پورے پانچ سو کے وی کا سسٹم بحال کر دیا گیا۔ مظفر گڑھ گٹی میں ’بیک اپ‘ سسٹم موجود نہ ہونے کے باعث ٹرپنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے لوڈ مینجمنٹ پروگرام پر کام جاری ہے۔ اس وقت 8600 میگا واٹ بجلی کا لوڈ چل رہا ہے جو کہ گزشتہ روز 8400 میگا واٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں ہزار سے پندرہ سو میگا واٹ بجلی کا شارٹ فال آ رہا ہے جبکہ رات کے وقت کچھ روز قبل شارٹ فال ڈھائی سے تین ہزار میگا واٹ تھا، جو کہ موثر اقدامات کی وجہ سے کم ہو کر پندرہ سو میگا واٹ تک آ گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رواں سال دسمبر تک 1700 سے 1800 میگا واٹ بجلی کا اضافہ ہو جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپکو اس سلسلہ میں اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے جس کا ثبوت کئی غیر ملکی پاور کمپنیوں کا پاکستان کے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 جنوری کو نندی پور پاور پلانٹ کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ اب رواں ماہ 31 مارچ کو چیچوکی ملیاں پاور پلانٹ کے لیے بھی چین کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے کنٹرول سسٹم کی ’اپ گریڈیشن‘ کی جا رہی ہے جس کے لیے پلاننگ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سسٹم کو ’فاسٹ ٹریک‘ کر دیا جائے گا جس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ منگل کے روز ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کو فاسٹ ٹریک سسٹم کے ذریعے فوری بحال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سافٹ ویئر اور ہارڈو ویئر سسٹم کی اپ گریڈیشن بھی کی جا رہی ہے جس کو جلد جدید سسٹم میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ اس وقت تربیلا ڈیڈ لیول پر چل رہا ہے۔ جونہی تربیلا میں پانی کا بہاؤ بڑھےگا تو لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوگی اور بجلی کی سپلائی بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کا خسارہ گزشتہ سال 77 ارب روپے ہو گیا تھا جس کی وجہ سے محکمہ کو قرضے لینا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو سبسڈی دی وہ واپڈا یا پیپکو کو نہیں ملی وہ عوام کو دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت واپڈا کے خسارہ کی بدولت 54 ارب روپے کے قرضے حاصل کئے گئے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ رواں سال طلب اور رسد کو توازن میں رکھنے کے لیے بجلی کی انتظامی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں پاور پلانٹس کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافے اور بارشوں کی بدولت ڈیموں میں پانی بھر جانے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی۔ | اسی بارے میں پاکستان: بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن 24 September, 2006 | پاکستان کراچی: بجلی کے لیے 9 ارب کا قرضہ04 June, 2007 | پاکستان پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان ’روزانہ آدھے گھنٹے بجلی بند‘03 January, 2007 | پاکستان کراچی میں بجلی کا بحران شدید17 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||