’عدلیہ کا بحران اتنا بڑا نہیں‘ زرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا ہے کہ ملک میں عدلیہ کا اتنا بڑا بحران نہیں جتنا بڑا بحران بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز مسلم لیگ نواز کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے ایک بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ آصف علی زرداری نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے رائے ونڈ پہنچے تھے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ ملک میں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں اور نظام کی تبدیلی کی طرف ان کا سفر شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تیس دنوں میں ایسا نظام دیں گے جس سے پاکستان کے عوام کو فائدہ ہوگا۔ ان کے بقول نظام کی تبدیلی ہی بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا انتقام ہوگا۔ پریس کانفرنس میں شہباز شریف، چودھری نثار، اسحاق ڈار اور خواجہ آصف کے علاوہ پیپلز پارٹی کے پنجاب میں پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت ملک کو توڑنے کی سازش تھی اور یہ منصوبہ اب بھی جاری ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے لیے درخواست تیار کی جارہی ہے۔ آصف علی زرداری صدر پرویز مشرف سے تعلقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان سے تعلقات پارلیمان اور حکومت رکھےگی۔ ان کے بقول ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان تعلقات کا انحصار صدر، وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کے درمیان رویوں پر ہوگا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے حصہ کا ثواب چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ۔ ان کے بقول یہ سوال کسی اور سے پوچھا جائے تو بہتر ہوگا۔
ایک اور سوال پر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کو ایم کیو ایم کی کابینہ میں شمولیت پر تحفظات ہیں اور نواز شریف کی طرف سے ایم کیو ایم کو کابینہ میں شامل کرنے کی ابھی اجازت نہیں ملی۔ نواز شریف نے کہا کہ پارلیمان سے ٹکراؤ کی باتیں ان کی طرف سے آرہی ہیں جو آئین کا احترام اور عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس پونے دو ماہ کی تاخیر سے بلایا جارہا ہے۔ ان کے بقول پارلیمان کبھی کسی سے محاذ آرائی نہیں کرتی بلکہ معاملات کو سلجھاتی ہے۔ ایک سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایوان صدر انہیں خالی نہیں کرنا بلکہ صدر پرویز مشرف نے خالی کرنا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بارے میں انہیں تحفظات ہیں اور ان کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحفظات اس وقت تک رہیں گے جب تک ان کے جوابات نہیں ملتے۔ نواز شریف نے بتایا کہ شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیْ ہونگے تاہم عبوری مدت کے لیے وزیر اعلیْ کا اعلان بھی جلد کردیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری نے عدلیہ اور پولیس میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف ان کی طرف سے آئندہ صدر ہونگے تو اس پر آصف زرداری نے جواب میں ’انشااللہ‘ کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں خاندانوں کے تعلقات دو سے تین نسلوں تک چلیں۔ان کے بقول بلاول اور بختاور کو معلوم کو ہونا چاہئے کہ حسن نواز کے خاندان کے ان کے تعلقات کس طرح کے ہیں۔ پریس کانفرنس میں نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سابق حکومت کی تمام اقتصادی پالیسوں کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول سابق حکومت امیروں کے لیے بجٹ بناتی تھی لیکن ہماری حکومت عام آدمی کے لیے بجٹ بنائے گی۔ اس ملاقات کے لیے جب آصف زرداری اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ لاہور پہنچے تو شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان نے ان کالاہور کے ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||