BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 March, 2008, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شدت پسندوں سے مذاکرات کریں گے‘
شدت پسندوں کے خلاف جنگ ’پاکستان کی جنگ‘ ہے:زرداری
پاکستان کے نئے حکمران اتحاد کے مرکزی رہنماؤں نے ملک میں ہونے والے خود کش حملوں کی روک تھام کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کی راہ اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے علیحدہ علیحدہ انٹرویوز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ فوجی طاقت کو آخری حربے کے طور پر ہی استعمال کریں گے۔

اخبار کے مطابق دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے صدر مشرف کے راستے سے مختلف راہ اپنانا چاہتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ’ہمیں اپنے ہی لوگوں کا سامنا ہے۔ ہم ان سے نہایت سمجھداری سے نمٹیں گے اور جب مسئلہ آپ کے اپنے خاندان کا ہی ہو تو کوئی اپنے گھر والوں کو تو نہیں مار سکتا‘۔

 پاکستانی عوام کو یہ باور کروانا بہت ضروری ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ’پاکستان کی جنگ‘ ہے کیونکہ وہ اس مسئلے کو امریکی ایجنڈا سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔
آصف زرداری

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ اس کے لیے بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر برطانیہ نے بھی شمالی آئرلینڈ کے مسئلے کا حل نکالا تھا۔ آخر مذاکرات میں حرج ہی کیا ہے‘۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق آصف علی زرداری نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ’ ایک بےوقوف شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ گزشتہ آٹھ برس میں جو انہوں(حکومتِ پاکستان) نے کیا ہے اس کا فائدہ نہیں ہو سکا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام کو یہ باور کروانا بہت ضروری ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ’پاکستان کی جنگ‘ ہے کیونکہ وہ اس مسئلے کو امریکی ایجنڈا سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں‘۔

 ہمیں اپنے ہی لوگوں کا سامنا ہے۔ ہم ان سے نہایت سمجھداری سے نمٹیں گے اور جب مسئلہ آپ کے اپنے خاندان کا ہی ہو تو کوئی اپنے گھر والوں کو تو نہیں مار سکتا۔
نواز شریف

اخبار کے مطابق پاکستان کی نئی حکومت کے مرکزی کرداروں کی جانب سے شدت پسندی کے بارے میں’نرم رویے‘ کا اعلان امریکی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ اب تک مشرف حکومت کی جانب سے انہیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی’ کھلی چھٹی‘ ملی ہوئی تھی۔

امریکی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس برس اب تک قریباً تین ماہ میں سترہ خودکش حملوں کے بعد پاکستانی عوام میں یہ خیال جڑ پکڑ چکا ہے کہ یہ حملے اسی عرصے کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے میزائل حملوں کا جواب ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد