قبائلی علاقے: عام شہری کی ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک درجن سے زائد عام شہری مارے جاچکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے مقامی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافے کو قبائلی عوام میں انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ باجوڑ ایجنسی سے نو منتخب رکن قومی اسمبلی شوکت خان کا کہنا ہے کہ نواگئی میں سکاؤٹس اہلکاروں نے بےگناہ اور معصوم شہریوں پر توپ خانے کا استعمال کیا جو ان کے بقول بالکل بے قصور تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’دس افراد کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد علاقے میں مسلسل شدید خوف و ہراس اور کشیدگی کی صورتحال ہے، لوگ خوف کی وجہ سے گھروں سے نہیں نکل رہے، نواگئی تحصیل میں تمام بازار اور اہم تجارتی مراکز بھی گزشتہ تین دنوں سے بند پڑے ہیں‘ ۔ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کچھ سالوں سے امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جاتی ہے۔ وہاں حکومتی اہلکاروں اور سرکاری چیک پوسٹوں پر رات کے وقت حملوں کے سلسلہ اب ایک معمول بن چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ ان واقعات کے روکنے اور ان میں ملوث گروہوں کو بے نقاب کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکے گا کہ باجوڑ ایجنسی کی موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وہاں گزشتہ تین سالوں میں شہری آبادی پر مبینہ بیرونی حملے ہیں۔ دو بار فضائی کارروائیاں القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الزواہری کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں اور پھر چنگئی کے مقام پر دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جس میں اسی سے زائد طالب علم اور اساتذہ ہلاک ہوئے۔
زیادہ تر حملوں میں شہری آبادی نشانہ بنی اور پھر حملے بھی مقامی ذرائع کے مطابق سرحد پار سے ہوئے جس کا اثر یہ ہوا کہ ان واقعات سے وہاں مقامی طالبان کی حمایت اور اثر رسوخ میں اضافہ ہوا۔ باجوڑ میں مقامی طالبان اب بظاہر ایک قوت کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہی صورتحال شمال اور جنوب میں بھی ہے۔ پاکستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے حالیہ واقعات نے افغانستان کے یاد تازہ کردی ہے۔ افغانستان میں گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد امریکہ کی طرف سے طالبان شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں متعدد بار شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق ہزاروں بے گناہ لوگ مارے جاتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ شہری علاقوں پر بمباری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت سے عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھی ہے جب کہ اس کا فائدہ کسی حد تک طالبان شدت پسندوں کو ہوا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بھی عرصہ ہوا سرحد پار سے میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا نشانہ بھی زیادہ تر شہری آبادی رہی ہے۔ شمالی وزیرستان میں تین دن قبل ایک گھر پر سرحد پار سے اتحادی افواج کی جانب سے میزائل حملہ اس کی زندہ مثال ہے۔ لیکن حکومت پاکستان نے اکثر اوقات افغانستان سے ہونے والے حملوں کو بھی اپنے ہی ’ کھاتے‘ میں ڈالا ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران باجوڑ اور وزیرستان میں متعدد بار سرحد پار سے مبینہ میزائل اور فضائی حملے کیے گئے جب کہ ملکی اور بین الااقومی ذرائع ابلاغ میں شواہد سے ثابت بھی کیا گیا کہ ان حملوں میں مبینہ طور پر امریکہ اور ان کے اتحادی ملوث تھے اور خود اتحادی افواج بھی اس کا اقرار کرتی رہی لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکام ان حملوں کو اپنی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قرار دیتے رہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان سے دہشت گردی کے نام پر امریکہ کی نام نہاد جنگ میں کئی غلطیاں سر زد ہوچکی ہیں جن کا خمیازہ اب اسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر قبائلی علاقوں میں شہری آبادی پر ہونے والے حملوں کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو اس کا فائدہ شدت پسندوں کو ہو سکتا ہے اور اس سے عام لوگوں میں ان کی حمایت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||