وزیرستان حملہ، پاکستان کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ بدھ کے روز شمالی وزیرستان کے علاقے لواڑہ منڈی میں سرحد پار سے داغے گئے توپ کے گولوں کے نتیجے میں چار شہریوں کی ہلاکت کے خلاف امریکی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج سے سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ روز اتحادی فوج بعض شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھی جب توپ کے پانچ گولے پاکستانی علاقے میں گرے۔ ان میں سے ایک گولہ ایک مکان پر گرا جس سے مکان تباہ ہوگیا اور وہاں موجود دو عورتیں اور دو بچے ہلاک ہوگئے۔ میجرجنرل اطہر عباس نے کہا: ’ہم نے اس واقعہ کے خلاف اتحادی افواج سے شدید احتجاج کیا ہے۔‘ خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق افغانستان میں نیٹو فوج نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس نے جنوبی وزیرستان میں دو عورتوں اور دو بچوں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ شمالی وزیرستان میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر ہے یا کوئی الگ واقعہ ہے۔ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں نے اطلاع دی تھی کہ ایک میزائل ایک مکان پر لگا جس کے نتیجہ میں دو خواتین اور دو بچے ہلاک ہوئے۔ میرانشاہ میں مقامی انتظامیہ نے میزائل داغے جانے کی تصدیق تھی۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کو شمالی وزیرستان کے علاقہ لواڑہ منڈی اور افغان سرحد کے قریب پاکستان کےعلاقے میں ایک مکان پر ایک میزائل گرا ہے جس کے نتیجہ میں دو خواتین اور دو بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار افغانستان کے علاقے نوئے منڈی سے چار میزائل داغے گئے جو تین کلومیٹر پاکستان کی حدود کے اندر گرے جس میں ایک میزائل فیض محمد مداخیل وزیر کے مکان پر گرا اور تین میزائل آبادی کے قریب ایک خالی میدان میں گرے اور زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے میزائل گرنے سے فیض محمد کا مکان مکمل طور تباہ ہوگیا۔ اس پہلے بھی کئی بار قبائلی علاقوں میں نامعلوم مقام کی جانب سے میزائل داغنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ مقامی لوگ اس قسم کے واقعات کا الزام افغان حکومت یا امریکہ پر لگاتے ہیں لیکن حکومت پاکستان ایسے واقعات کو محض ایک حادثہ قرار دیتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: مکان پر میزائل حملہ، آٹھ ہلاک28 February, 2008 | پاکستان باجوڑ خود کش حملہ، دو ہلاک01 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||