BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 19:57 GMT 00:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان: امن کاکیا بنے گا

پاکستانی سکیورٹی اہلکار
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی فوجی تعینات ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے قریب ہونے والا خود کش حملہ ایک سال کے بعد ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان پچھلے سال ہونے والا امن معاہدہ اپریل میں ختم ہونے والا ہے۔

تازہ خودکش حملے نے وقتی طور پر حکومت کی ان کوششوں پر بظاہر پانی پھیر دیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے امن معاہدہ کو مزید ایک سال تک وسعت دی جائے۔ مگر چند دن قبل ایک مبینہ میزائل حملہ میں تقریباً اٹھارہ ’غیر ملکیوں‘ کی ہلاکت نے ’ امن معاہدہ‘ کی توسیع کے معاملہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

میزائل حملے کے بعد ملا نذیر کے ایک اہم کمانڈر میٹھا خان نے معاہدہ توڑنے کا عندیہ دیا تھا جبکہ تازہ خودکش حملہ کی ببانگ دہل ذمہ داری قبول کرکے یہ بات واضح کردی ہے کہ طالبان مزید میزائل حملوں پر خاموش تماشائی بننے کو تیار نہیں ہیں۔

تازہ خودکش حملہ سے تین گھنٹے قبل ہی پولیٹیکل انتظامیہ نے احمد زئی وزیر قبیلہ کا ایک گرینڈ جرگہ بلایا تھا جس میں طالبان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ احمد زئی وزیر قبیلہ نے معاہدہ کی پاسداری کی یقین دہانی تو کرائی مگر طالبان نے مبینہ خودکش حملہ کرکے اپنا ارادہ واضح کردیا۔

پچھلے سال اپریل میں وزیر قبیلہ کی سرزمین پر سرگرم مقامی طالبان نے ملا نذیر کی سربراہی میں، قبائلیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے تعاون سے تین ہفتوں کی مسلسل لڑائی کے بعد ’ازبک جنگجؤوں‘ کو علاقہ سے بے دخل کردیا تھا۔ اس کارروائی میں سرکاری دعوؤں کے مطابق ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر ’ازبک جنگجو‘ تھے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ازبک جنگجوؤں کے خلاف طالبان اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی کے بعد ایک امن معاہدہ طے پایا جس نے جنوبی وزیرستان کے وزیر علاقوں سے باہر باقی قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں سرگرم طالبان کی صفوں میں ملا نذیر کو’حکومت نواز طالبان کمانڈر‘ کے طور پر پیش کیا اور یوں وہ تنہا ہوگئے۔

شدت پسند
پاکستانی طالبان کا موقف ہے کہ وہ افغانستان میں غیرملکی افواج کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے
علاقہ سے بے دخل ہونے والے ازبک جنگجؤوں نے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقہ اور شمالی وزیرستان میں پناہ لی جہاں سے انہوں نے کئی بار ملانذیر اور انکے کمانڈروں پر قاتلانہ حملہ کیے۔ تاہم ان چند واقعات کے بعد وانا ایک سال تک مکمل طور پر پر امن رہا۔

حکومت نے وانا میں امن و امان کا کنٹرول ملانذیر اور انکے ساتھیوں کے ہاتھوں میں دیدیا ہے اور بقول ایک آفسر کے’ملانذیر کام کور کمانڈر کا کرتے ہیں جبکہ ان کو پروٹوکول حوالدار کا حاصل ہے۔‘

اگرچہ ازبک جنگجوؤں کو علاقہ سے بے دخل کردیاگیا لیکن باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب، ترکمان اور پنجابی طالبان کی ایک بڑی تعداد نے بدستور علاقے میں طالبان کے ہاں پناہ لے رکھی ہے کیونکہ حکومتی لغت میں’غیر ملکی‘ کا لفظ صرف ازبک جنگجوؤں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔

باہر کی دنیا کو وہاں پر غیر ملکیوں کی موجودگی کا پتہ اس وقت لگا جب حال ہی میں ملا نذیر کے زیر کنٹرول علاقوں کالو شہ اور ڈھوک کے علاقوں میں واقع دو گھروں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں ہلاک ہونے والے زیادہ ترغیر ملکی پناہ گزیں بتائے گئے۔اگرچہ حکومت نے میزائل حملوں پر خاموشی اختیار کرنے کو ہی ترجیح دی تاہم مقامی حکام کا کہنا تھا کہ حملے’ امریکی جہازوں‘ سے کیے گئے تھے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مبینہ غیر ملکیوں کی پناہ گاہوں کو مبینہ میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف دو ماہ میں اس قسم کے چار حملے کیے گئے ہیں جن میں میر علی کے میزائل حملہ میں القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابوالیث اللیبی بھی مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے تھے۔

ان حملوں میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ پاکستانی حکام نے امریکہ کو قبائلی علاقوں میں چپھے القاعدہ کے کارکنوں کیخلاف حملوں کی اجازت دی ہے تاہم پاکستان نے اس رپورٹ کومسترد کردیا تھا۔

لیکن حقیقیت یہ ہے کہ ان میزائل حملوں نے قبائلی علاقوں میں موجود انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کی خطرات میں نہ صرف اضافہ کردیا ہے بلکہ ان کو روکنا آئندہ منتخب ہونے والی مخلوط حکومت کے لیے بھی اس لحاظ سے ایک چیلنج ہے کہ اس نےقبائلی علاقوں میں طاقت کے استعمال سے ہٹ کرگفت و شنید کے ذریعہ امن و امان کے قیام کو برقرار رکھنے کا ارداہ ظاہر کیا ہے۔

ملا نذیر احمدطالبان کی کارروائی
’ملا نذیر احمد طالبان تحریک سے خارج‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد