وانا میزائل حملے میں اٹھارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک مکان پر میزائل گرنے کے نتیجہ میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔ نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق ایک اہم سرکاری اہلکار کا کہنا ہے بیس تابوت تیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور ہلاک ہونے والے عرب نژاد ہیں جب کہ زخمی ہونے والے نو افراد ترکمان و عرب نژاد ہیں اور انہیں وانا ہی کے نجی ہسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق گھر کو کئی میزائیلوں نے نشانہ بنایا۔ جب کہ ایک مقامی قبائلی رحیم خان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ میزائل ایک ایسے طیارے سے داغے گئے جو آدمی کے بغیر اڑایا جاتا ہے۔ نامہ نگار دلاور خان کی اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے جسموں کے ٹکڑے دور دور جا گرے۔ ان عینی شاہدین کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد سات ہے اور انہیں مقامی طالبان نے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق اتوار کوشام تین بجے وانا سکاؤٹس قلعہ سے تین کلومیٹر جنوب کی جانب گاؤں شاہ نواز کوٹ میں ایک مکان پر میزائل گرے ہیں جس کے نتیجہ میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا اس مکان میں غیر ملکی تھے یا نہیں۔’پوری معلومات کے بعد ہی طے ہو سکے گا کہ ہلاک ہونے والے کون ہیں۔‘ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تین بجے کے قریب سکاؤٹس قلعہ کے جنوبی علاقے سے ایک جہاز آیا جس کے بعد تین دھماکے ہوئے اور نوراللہ نامی شخص کے مکان سے دھواں اٹھنے لگا جس کے بعد لوگ مدد کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ ایک عینی شاہد محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں وہاں پہنچا تو ٹکڑے ٹکڑے لاشیں ملبے کے نیچے پڑی تھیں اور مقامی لوگ یہ شناخت نہیں کرسکتے تھے کہ یہ لاش کسی کی ہے۔ وہ اعضاء کے ٹکڑوں کو بوریوں اور کپڑوں میں لپیٹ رہے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ ایک اور عینی شاہد بہرام خان نے بتایا کہ سات زخمیوں کو فوری طور پر مقامی طالبان نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ان کا کہنا ہے ہلاک ہونے والے مقامی طالبان نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سخت خوف ہراس پھیل گیا ہے ان کے مطابق مقامی لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس مکان میں کون رہائش پذیر ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے یا خواتین شامل نہیں ہیں۔
علاقے کے دوسرے لوگوں کا کہنا ہے مکان میں غیر ملکی عرب رہ رہے تھے اور مقامی طالبان کا بھی اس مکان میں آنا جانا تھا۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کس عرب ملک کے تھے اور ان کے نام کیا تھے۔ یاد رہے عسکریت پسندوں کے کمانڈر نیک محمد کو بھی اسی گاؤں کے ایک مکان میں میزائل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔حالیہ حملے کا نشانہ بننے والا مکان اس مکان سے صرف دو سو گز کے فاصلے پر ہے۔ نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق ایک اہم سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیس ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے اٹھارہ کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد نو ہے۔ اس اہلکار کے مطابق حملہ ایک امریکی جہاز نے کیا جو انتہائی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ان کے مطابق کل پانچ میزائل داغے گئے جن میں سے تین اپنے ہدف پر لگے اور حملے کے بعد بھی مذکورہ جہاز علاقے پر پرواز کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جہاز علاقے پر دو روز سے پرواز کر رہا تھا اور جس گھر کو ہدف بنایا گیا اس میں ایک ڈاکٹر بھی رہتا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کا علاج کرتا تھا۔ کچھ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ جس مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ایک تربیتی مرکز تھا۔ تاہم مذکورہ بالا سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملہ بہت بڑا تھا۔ | اسی بارے میں وزیرستان حملہ، پاکستان کا احتجاج12 March, 2008 | پاکستان وزیرستان: مکان پر میزائل حملہ، آٹھ ہلاک28 February, 2008 | پاکستان گھر پر میزائل لگنے سے بارہ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان وانا قبائل کا قبضہ، غیرملکی ’باہر‘06 April, 2007 | پاکستان جنگ بندی لیکن لوگ لوٹ نہیں رہے08 February, 2008 | پاکستان نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد07 June, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||