جنگ بندی لیکن لوگ لوٹ نہیں رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج اور طالبان کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ بندی کے باوجود بھی علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد نے اپنے گھروں کو نہیں لوٹ رہے۔ تئیس جنوری کو شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے پانچ روز بعد مقامی آبادی نے بمباری سے جان بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرتے ہوئے گاڑیوں اور میلوں پیدل سفر طے کیا تھا اور وہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور یہاں تک کہ کراچی اور حیدرآباد تک پہنچ گئے۔ اگرچہ حکومت کے پاس نقل مکانی کرنے والوں کے حوالے سےدرست اعداد شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین سو رضاکاروں کے منتظمین کا دعوی ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد نے اپناگھر بار چھوڑا ہے۔ ان کے بقول جنوبی وزیرستان کے آٹھ تحصیلوں میں سے پانچ تحصیلوں سروکئی، لدھا، سرہ روغہ، تیارزہ اور مکین میں محسود قبیلے کے لوگ آباد ہیں اور یہاں سے ایک لاکھ سے زائد افراد نے پانچ مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے محفوظ مقامات پر منقتل ہو گئے ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے اس نے اپنے خاندان کو پہلے بلوچستان کے شہر ژوب پہنچایا اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتے ہوئے ٹانک پہنچ گئے یوں انہوں نے گاڑی کے چار گھنٹے کا راستہ دس گھنٹے میں طے کیا۔
ٹانک میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے بے گھر ہونے والے ان افراد کے لیے ٹانک شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور سات سو بیس افراد کی گنجائش کے لیے دو بیس خیموں پر مشتمل ایک کیمپ قائم کیا ہے مگر بقول ان کے دو ہفتے کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کوئی بھی متاثرہ شخص کیمپ میں پناہ لینے کے لیےنہیں آیا ہے۔ محسود رضاکاروں کے ایک منتظم ظاہر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور آس پاس کے علاقوں میں پہلے سے رہائش پذیر اپنے عزیز و آقارب کے گھروں میں پناہ لی ہے۔ ان کے بقول ان کے تین کمروں کے گھر میں تین متاثرہ خاندانوں نے پناہ لی ہے جن کی تعداد چالیس کے قریب بنتی ہے۔ان کے مطابق’دن تو کسی نہ کسی طرح کٹ جاتا ہے مگر رات کو سونے کے لیے جگہ ناکافی پڑ جاتی ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے لیٹ کر رات گزار لیتے ہیں لیکن آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔‘ مولوی حسام الدین کے تین کمروں کے گھر میں بھی تقریباً ساٹھ افراد پر مشتمل سات خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ان کے بقول’گھر کے خواتین سارا دن کھانا پکانے میں مصروف رہتی ہیں مگر اس کے باوجود ضرورت پوری نہیں ہو پاتی۔ ہمارے ننانوے فیصد محلہ محسود قبیلے کے افراد پر مشتمل ہے مگر بے گھر ہونے والے رشتہ داروں کی آمد کی وجہ سے کسی بھی گھر میں جگہ نہیں رہی ہے۔ ہم گھر کے مرد پچھلی رات کو اپنے ایک غیر محسود پڑوس کے بیھٹک میں رات بسر کرنے گئے تو وہاں بھی جگہ نہیں ملی۔‘ نور جان کے گھر میں بھی چار خاندان آئے ہیں۔ان کے مطابق’غربت اور مہنگائی کی وجہ سے ہم اپنے ان بے گھر ہونیوالے رشتہ داروں کو کب تک سنبھالیں گے۔ سخت سردی ہے اور پانی کی بھی اب قلت پیدا ہوگئی ہے۔‘ ٹانک کے لوگوں نے بتایا کہ محسودوں کے علاوہ وہاں کے بیٹنی، شیرانی اور سرائیکی بولنے والوں کے ہاں بھی کئی کئی خاندان رہائش پذیر ہے اور ایک دن جب شہر کے لوگوں نے متاثرین کی مدد کے لیے روٹیاں اکھٹی کیں تو روٹیوں سے بھرا ایک مزدا اور پک اپ بھی ان کے لیےکم پڑ گیا۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی حالت برقرار رہی تو ان متاثرین کو سنبھالتے سنبھالتے خود میزبان بھی ایک دن متاثرین میں بدل جائینگے اور شہرمیں نہ صرف غربت کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے،خوراک اور پانی کی قلت کا خطرہ بھی ہے۔ | اسی بارے میں وانا میں سبزہ اور مستقبل کا سوال26 April, 2007 | پاکستان نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد07 June, 2007 | پاکستان ’ٹی وی پر پابندی، 10ہزار روپے جرمانہ‘18 June, 2007 | پاکستان فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی03 September, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان وانا میں این جی او پر حملہ25 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||