BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 June, 2007, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹی وی پر پابندی، 10ہزار روپے جرمانہ‘

سی ڈیز
جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں گزشتہ کئی سالوں سے ٹی وی اور سی ڈی کا استعمال بہت کم رہا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک پمفلٹ کے ذریعے دھمکی دی گئی ہے کہ ’ہوٹلوں، ریسٹورانوں، دکانوں اور دوسرے مقامات سے ٹی وی اور سی ڈی وغیرہ کو بیس جون تک ہٹا دیں۔ اگر کسی نے بیس جون تک اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے بعد اس شخص کو دس ہزار پاکستانی روپے جرمانہ کیا جائےگا۔‘

پمفلٹ کی تحریر اردو زبان میں ہے جس کا عنوان ہے ’ایک ضروری اعلان‘۔ پمفلٹ میں وانا بازار کے علاوہ کئی دوسرے بازاروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں اعظم ورسک، شاہ عالم، رغزائی، کڑیکوٹ، انگوراڈہ کے بازار شامل ہیں۔

پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ وانا اور ملحقہ علاقوں میں ٹی وی اور سی ڈی پر مکمل پابندی ہوگی اور کسی کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ بیس جون کے بعد ٹی وی یا سی ڈی کا استعمال کرے۔

پمفلٹ کو مجاہدین وزیرستان اور امن کمیٹی کی جانب سے شائع کیا گیا ہے اور اسے پیر کو وانا بازار کی دیواروں پر چسپاں کیا گیا۔ پمفلٹ میں امیر کا نام محمد قاسم لکھا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں گزشتہ کئی سالوں سے ٹی وی اور سی ڈی کا استعمال بہت کم رہا ہے اور بازاروں میں سی ڈی کی دکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ علاقے سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ اس پمفلٹ کے شائع ہونے کے بعد دکانداروں نے اپنی دکانوں سے ٹی وی وغیرہ ہٹا دیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد