رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | ازبک غیرملکیوں سے تازہ لڑائی انیس مارچ کو شروع ہوئی تھی |
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اطلاعات کے مطابق حکومتی حامی قبائلی لشکر نے غیرملکیوں اور ان کے مقامی حامیوں کے زیرکنٹرول اہم علاقوں شین ورسک اور ژہ غنڈی پر قبضے کے بعد وہاں سے غیر ملکیوں کو نکال دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے جمعہ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقامی قبائل پر مشتمل لشکر اور ازبک جنگجوؤں کے مابین کچھ روز سے شین ورسک اور ژہ غنڈی کے اہم مورچوں پر شدید لڑائی جاری تھی جس پر مقامی قبائل کا قبضہ ہوجانے کے بعد غیرملکیوں کو وہاں سے بالاآخر نکال دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شین ورسک اور ژہ غنڈی چھوڑنے کے بعد غیرملکی اب وانا کے مغرب میں واقع علاقے نندرونہ اور آنارگاسی میں مورچہ زن ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شین ورسک کے علاقے میں گیارہ افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں جن میں مولوی نذیر کے حامیوں کے علاوہ غیرملکی بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لاشیں شدید لڑائی کے باعث تین دن سے وہاں پڑی رہیں۔  | لڑائی میں فوج شامل؟  ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وانا سکواٹس کیمپ میں تعینات پاکستانی سکیورٹی فورسزز کی جانب سے غیرملکیوں کے مورچوں پر آج بھی توپ کے گولے داغے گئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔  |
ادھر قبائل اور غیرملکیوں کے درمیان انیس مارچ سے شروع ہونے والی یہ لڑائی جمعہ کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہی تاہم تازہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ملیں ہیں۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے نند رونہ، آنار گاسی، اعظم ورسک اور کلوشہ کے علاقوں میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک لڑائی جاری تھی۔ ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وانا سکواٹس کیمپ میں تعینات پاکستانی سکیورٹی فورسزز کی جانب سے غیرملکیوں کے مورچوں پر آج بھی توپ کے گولے داغے گئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ جمعرات کے روز وانا میں احمد زئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں قبائل نے حکومت سے غیرملکیوں کے خلاف مدد وتعاون کا مطالبہ کیا تھا۔ ادھر علاقے میں اب تک ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لڑائی میں ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں حکومت کے مطابق اکثریت ازبک غیرملکیوں کی ہے جبکہ مقامی لوگ یہ تعداد مجموعی طورپر بہت کم بتارہے ہیں۔ صدر مقام وانا میں قائم ٹیلی فون ایکسچنج بدستور خراب ہے جس کی وجہ سے علاقے کا رابطہ ملک کے دیگر شہروں سے مکمل طورپر کٹا ہوا ہے۔ وانا سے پشاور پہنچنے والے صحافیوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ٹیلی فون نظام درست نہیں کرنا چاہتی تاکہ علاقے میں جاری کاروائیوں کی رپورٹنگ بین الااقوامی ذرائع ابلاغ میں نہ ہوں۔ |