BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 March, 2008, 22:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف برادران کے لیے نیا چیلنج

پہلے فرقہ واریت تھی لیکن اب خود کش حملوں کو روکنا ہوگا
لاہور میں ہونے والے پے در پے خود کش دھماکے لاہور کے نئے اور متوقع حکمرانوں یعنی شریف برادران کے لیے ایک ایسے نئے چیلنج کی حثیت رکھتے ہیں جس سے اپنے سابق دور میں انہیں کبھی واسطہ نہیں پڑا۔

اب تک کی ملکی سیاسی صورتحال سے عندیہ مل رہا ہے کہ مرکز میں شراکتِ اقتدار کے علاوہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ نون حکومت بنانے جارہی ہے۔

پاکستان میں ہونے والے حالیہ خود کش حملوں کا نشانہ شورش زدہ قبائلی پہاڑی علاقوں کے علاوہ اب پنجاب کے وسطی علاقے بھی ہیں۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم رہنے کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں۔ان دونوں حثیتوں سے وہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔

اپنے دور میں انہیں مقامی ڈکیتوں اور قاتلوں کے مقامی گروہوں، فرقہ وارانہ تنظیموں اور مبینہ ہندوستانی ایجنٹوں کی تخریب کاری کا سامنا رہتا تھا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف ہی وہ شخصیت ہیں جن کےدورمیں لاہور میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اگرچہ اس وقت کی حکومت نے اس سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔

تاہم ان کےدور میں بڑے بڑے بدنام اور بستہ الف بے کے ملزم پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں بھی وزیر اعلی منظور وٹو اور سردار عارف نکئی کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا۔

ان اور چھوٹے پیمانے پر ہونے والی دیگر ہلاکتوں کو ہرحکومت کے خاتمے کے بعد ماورائے عدالت قتل جیسے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ انہی مبینہ مقابلوں کے ہتھیار کو استعمال کرکے شریف حکمرانوںٰ نے تخریب کاری اور فرقہ وارایت سے نمٹنے کی کوشش بھی کی تھی۔

نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تو ان پر دو بم دھماکوں کے ذریعے ایسے حملے ہوئے جن میں وہ معجزانہ طور پر بچے تھے اور بعد میں ہونی والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزموں کا تعلق ایک ایسی مذہبی تنظیم سے تھا جس کے کارکنوں مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

فرقہ وارنہ شدت پسندی سے نمٹنے کی ناکامی کا دوسرا بڑا سرٹیفکیٹ انہیں اس وقت ملا جب وہ دوتہائی اکثریت کے ساتھ اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔

یہ یکم اور دو اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کی بات ہے جب صرف دو روز کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں ٹارگٹ کلنگ یعنی فائرنگ کے ذریعے ایک سو کے قریب شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔

اب آٹھ برس کے بعد جب وہ دوبارہ اقتدار میں آتے دکھائی دے رہےہیں تو شدت پسندی کا جن فرقہ واریت کے لباس سے باہر نکل کر انٹی فورسزخودکش حملہ آوروں کا روپ دھار چکا ہے۔

پنجاب کی سطح پہ نواز حکومت کو جن شدت پسند عناصر سے نمٹناہوگا وہ گلی محلوں کے لٹیرے یا کالعدم مذہبی تنظیموں کے بے سروسامان کارکن نہیں۔

اب انہیں انتہائی درجے کے تربیت یافتہ، جدید ہلاکت خیز سازو سامان سے لیس ایسے حملہ آور کا سامنا ہوگا جنہیں روکنے میں فی الحال دنیا کی ہر تکنیک اور ہر طاقت بظاہر ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔

اسی بارے میں
گڑھی خدا بخش میں تدفین
12 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد